علی گڑھ ڈسٹرکٹ جیل میں قیدی نے خودکشی کرلی

جیل کے حکام نے اس کو خودکشی کا کیس قرار دیا ہے، لیکن مہلوک کے ارکانِ خاندان نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ واردات ایک سازش کا نتیجہ ہے۔

علی گڑھ: ایک 52 سالہ زیردریافت قیدی جس کو سرقہ کے الزامات پر گرفتار کرلیا گیا تھا، علی گڑھ ڈسٹرکٹ جیل میں ایک درخت سے پھانسی پر لٹکا ہوا پایا گیا۔

جیل کے حکام نے اس کو خودکشی کا کیس قرار دیا ہے، لیکن مہلوک کے ارکانِ خاندان نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ واردات ایک سازش کا نتیجہ ہے۔ خاندان کا کہنا ہے کہ 4 دسمبر کو اس کے کیس کی سماعت ہونے والی تھی۔ وہ کس طرح انتہائی اقدام کرسکتا ہے۔

اس واقعہ کی عدالتی تحقیقات کی جائے گی، جو کہ کوڈ آف کریمنل پروسیجر کے تحت ضروری ہے۔ جیل کے حکام کے مطابق اومکار سنگھ کو 24 ستمبر کو جیل لایا گیا تھا۔ اس پر سلنڈر کے سرقہ کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

جیلر پرمود کمار سنگھ نے کہا کہ قبل ازیں 9 ستمبر کو بھی اومکار سنگھ کو گرفتار کیا گیا تھا، لیکن اس کو 18 ستمبر کو ضمانت پر رہا کردیا گیا تھا، لیکن ایک ہفتہ کے بعد اس کو دوبارہ 24 ستمبر کو گرفتار کیا گیا۔

سنگھ کے بھائی ویرام نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ اس کے بھائی کی موت کی اطلاع پولیس سے خاندان کو ملی۔ ویر رام نے کہا کہ اس کا بھائی جو کہ ایک ڈرائیور کی حیثیت سے کام کیا کرتا تھا۔

چند دن قبل اپنے خاندان سے بات چیت کی تھی اور بتایا تھا کہ اس کے کیس کی سماعت 4 دسمبر کو ہوگی۔ اب جب کہ اس کے کیس کی عنقریب سماعت ہونے والی تھی اور اس کا ذکر اومکار سنگھ نے کیا تھا کس طرح وہ انتہائی اقدام کرسکتا ہے۔

بھائی ویر رام نے بتایا کہ ہوسکتا ہے کہ اومکار سنگھ کو جیل میں ہلاک کردیا گیا ہے۔ مہلوک کے خاندان نے یہ الزام عائد کیا، جب کہ جیل سپرنٹنڈنٹ وپن کمار مشرا نے ارکانِ خاندان کے الزامات کی تردید کردی اور کہا کہ جیل کے حکام کی جانب سے فرائض کی انجام دہی میں کوئی لاپرواہی نہیں کی جاسکتی۔

وپن کمار مشرا نے کہا کہ اومکار سنگھ کے ارکانِ خاندان میں سے کسی نے بھی جیل میں اس سے ملاقات نہیں کی۔ دو ماہ تک وہ جیل میں رہا، لیکن کوئی رکن خاندن ملاقات کے لیے نہیں آیا۔ انہوں نے کہا کہ پوسٹ مارٹم کے بعد نعش خاندان کے حوالے کردی گئی۔

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.