غیرقانونی تبدیلی مذہب کا الزام‘ سرفرازعلی ظفری گرفتار

اے ٹی ایس کے آئی جی‘ جی کے گوسوامی نے کہا کہ انہیں مولانا کلیم صدیقی سے پوچھ تاچھ کے دوران سرفراز علی ظفری کے بارے میں پتہ چلا۔ انہوں نے کہا کہ ظفری‘ مولانا کلیم صدیقی کے عالمی امن مرکز میں کام کیا کرتے تھے۔

لکھنو: اترپردیش کے انسداد دہشت گردی اسکواڈ(اے ٹی ایس) نے آج غیرقانونی تبدیلی ئ مذہب کے سلسلہ میں ایک اور ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ملزم سرفراز علی ظفری کو ضلع امروہہ سے گرفتار کیا گیا۔ اے ٹی ایس کے صحافتی بیان کے مطابق ظفری‘ مولانا کلیم صدیقی کے ساتھ کام کررہے تھے اور 2016 سے غیرقانونی تبدیلی مذہب میں ملوث تھے۔

 اے ٹی ایس کے آئی جی‘ جی کے گوسوامی نے کہا کہ انہیں مولانا کلیم صدیقی سے پوچھ تاچھ کے دوران سرفراز علی ظفری کے بارے میں پتہ چلا۔ انہوں نے کہا کہ ظفری‘ مولانا کلیم صدیقی کے عالمی امن مرکز میں کام کیا کرتے تھے۔ وہ ایک واٹس ایپ گروپ ریورٹ‘ ری ہیاب اینڈ دعوۃ کے رکن بھی ہیں جس کے ذریعہ ان کے گروپ کے ارکان مذہبی منافرت پھیلاتے تھے۔ عوام کو مختلف قسم کی لالچ دیتے ہوئے اسلام قبول کرنے کی ترغیب دیتے تھے۔ ظفری کو ریمانڈ میں لیا جائے گا اور ان سے مسلسل پوچھ تاچھ کی جائے گی۔

 قبل ازیں جون میں اے ٹی ایس نے مولانا عمر گوتم اور ان کے ساتھی مفتی قاضی جہانگیر قاسمی کو گرفتار کرتے ہوئے مبینہ غیرقانونی تبدیلی مذہب ریاکٹ کو بے نقاب کیا تھا۔ بعدازاں رامیشور کاؤڑے عرف آدم‘ کوثر عالم اور بھوریابندو عرف ارسلان مصطفی کو گرفتار کرتے ہوئے ناگپور سنڈیکیٹ کو بے نقاب کیا گیا تھا۔

 گجرات کے تاجر صلاح الدین زین الدین اور مہاراشٹرا کے ڈاکٹر فیروز شاہ کو بھی گرفتار کیا گیا تھا۔ اے ٹی ایس نے 22  ستمبر کو مولانا کلیم صدیقی کو گرفتار کیا تھا اور ان کے 3 ساتھیوں ادریس قریشی‘ سلیم اور کنال اشوک کو 26 ستمبر کو گرفتار کیا گیا تھا۔ دھیرج جگتاپ عرف دھیرج دیشمکھ کو بھی یکم اکتوبر کو کانپور سے گرفتار کیا گیا تھا۔

ذریعہ
آئی اے این ایس

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.