فیض آباد جنکشن کا نام ایودھیا کنٹونمنٹ کردینے پر عوام ملا جلا رد عمل

منظر مہدی کو ڈر ہے کہ اترپردیش میں اسلامی ناموں والے مزید شہروں کے نام بدلے جائیں گے۔ دہلی میں مقیم مورخ اور ادیبہ رعنا صفوی نے کہا کہ ایودھیا اور فیض آباد ہمیشہ جڑواں شہروں کے طورپر جانے گئے ہیں۔ یہ ہندوستان کی گنگا جمنی تہذبی کی علامت ہیں۔

فیض آباد(یوپی): ضلع فیض آباد کا نام بدل کر ایودھیا کردینے کے تین سال بعد فیض آباد جنکشن کا نام تبدیل کرنے کی حالیہ کوشش پر مورخین اور مقامی لوگوں کی طرف سے ملا جلا رد عمل سامنے آیا ہے۔ ان میں کئی کا احساس ہے کہ اس سے اس تاریخی شہر کی شناخت مٹ جائے گی اور الجھن پیدا ہوگی۔ ایک طبقہ نے تاہم حکومت اترپردیش کے فیصلہ کا خیرمقدم کیا ہے۔ بعض کا کہنا ہے کہ عام مقامات پر ہر جگہ ایودھیا کا نام استعمال کیا جانا چاہیئے کیونکہ یہ بھگوان رام کی نگری ہے۔

 55سالہ رکشاں راں سادھو رام کا کہنا ہے کہ نام کی تبدیلی ضروری نہیں۔ پہلے سے ایودھیا اسٹیشن موجود ہے۔ مسافرین کو اب الجھن ہوگی۔ سادھو رام تاریخی فیض آباد جنکشن کے سامنے عام طورپر اپنا رکشا ٹہراتا ہے۔ وہ 12سال کی عمر میں ضلع شاہ جہاں پور کے جلال آباد سے فیض آباد منتقل ہوا تھا۔ اب وہ الجھن میں ہے کہ مسافرین کو لے جانے کیلئے اسے فیض آباد کہے یا ایودھیا کنٹونمنٹ۔ فیض آباد جنکشن پر 2008سے قلی کے طورپر کام کرنے والا 30سالہ راجیش کمار بھی الجھن میں ہے۔ کہا جاتا ہے کہ فیض آباد اسٹیشن 1874کھلا تھا۔

 اس نے پیتل کا بنا اپنا بیاچ دکھایا جس پر لائسنسڈپورٹر این آر 77فیض آباد کندہ ہے۔ اس نے اسٹیشن کے پورچ  میں لگے عارضی بیانر کی طرف اشارہ کیا جس پر بڑے حروف میں چار زبانوں ہندی‘ سنسکرت‘ انگریزی اور اردو میں نیا نام ایودھیا کینٹ لکھا ہے۔ اس نے کہا کہ بڑی الجھن پیدا ہوگی کیونکہ ایودھیا سٹی اسٹیشن یہاں سے لگ بھگ 10کیلومیٹر کے فاصلہ پر پہلے سے موجود ہے۔

 فیض آباد یا ایودھیا پہلی مرتبہ آنے والے مسافرین غلط اسٹیشن پر اتر جائیں گے۔  فیض آباد شہر اپنے جڑواں ٹاؤن ایودھیا سے لگ بھگ 7کیلومیٹر دور واقع ہے۔ ایودھیا ضلع پہلے فیض آباد کہلاتا تھا۔ فیض آباد اسٹیشن بڑا ریلوے اسٹیشن ہے جو ناردرن ریلوے زون میں آتا ہے۔ یہ لکھنو۔وارانسی سیکشن کا حصہ ہے۔ ایودھیا ٹاؤن ریاستی دارالحکومت لکھنو سے لگ بھگ 130کیلومیٹر دور واقع ہے۔ انگریزی‘ ہندی اور اردو کا تکونی سائن بورڈ ہال میں ہٹا دیا گیا۔

 دیوالی کے دن اسٹیشن کے سائن بورڈس پر بھی پرنٹ کردیا گیا۔ فیض آباد جنکشن کوڈ ایف ڈی کی جگہ اب ایودھیا کینٹ اسٹیشن کوڈ اے وائی سی نے لے لی ہے۔ اسٹیشن کے احاطہ کی دیواروں پر حکام نے پوسٹرس لگائے ہیں۔ عوام کو جانکاری دی گئی کہ 2نومبر سے فیض آباد اسٹیشن کا نام ایودھیا کینٹ ہوگیا ہے۔

 ایودھیا ٹاؤن میں رہنے والے ایک ٹورسٹ گائیڈ انکت پانڈے(25سالہ) نے کہاکہ نام کی تبدیلی ضروری تھی کیونکہ فیض آباد کا نام برقرار نہیں رہ سکتا۔ سارا ضلع اب ایودھیا ہوگیا ہے۔ ایودھیا‘ رام کی نگری ہے۔ اپوزیشن نے اس اقدام کو سیاسی فائدہ کیلئے ہندوؤں کے جذبات سے کھلواڑ کی کوشش قرار دیا ہے۔ چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ نے نام کی تبدیلی کی مدافعت کی ہے۔

 مورخ اور فیض آباد سے دو زبانوں میں شائع ہونے والے آپ کی طاقت کے ایڈیٹر منظر مہدی کو نام کی تبدیلی پر اعتراض ہے۔ ان کی اشاعت ہندو۔مسلم دو بھائی ہندی۔اردو دو بہن کے نعرے کے ساتھ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو بڑھاوا دیتی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ یہ سب گندی سیاست کی وجہ سے ہورہا ہے۔ فیض آباد شہر کی شناخت مٹانے کی کوشش ہورہی ہے۔

 انہوں نے نشاندہی کی کہ کئی دکانیں‘ سرکاری دفاتر اور چوک میں واقع ادارے فیض آباد کا پرانا نام استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے بورڈس پر فیض آباد ایودھیا لکھا ہے۔ منظر مہدی نے کہا ہے کہ فیض آباد اودھ کے نوابوں کا پہلا دارالحکومت تھا۔ اس نے شاندار عہد دیکھا ہے۔ یہ شہر فن تعمیر اور ادبی ورثا سے مالا مال ہے۔

 انہوں نے کہا کہ میں ایودھیا کو مذہبی مقام مانتا ہوں لیکن میرے فیض آباد کی اپنی شناخت ہے۔ جب تک میں زندہ ہوں میرے دفتر کے بورڈ سے فیض آباد کا نام نہ تو مٹے گا نہ تو ہٹے گا۔ بی جے پی حکومت الہ آباد کو پریاگ راج اور مغل سرائے ریلوے اسٹیشن کو پنڈت دین دیال اپادھیائے ریلوے جنکشن کا نام 2018میں دے چکی ہے۔  منظر مہدی کو ڈر ہے کہ اترپردیش میں اسلامی ناموں والے مزید شہروں کے نام بدلے جائیں گے۔ دہلی میں مقیم مورخ اور ادیبہ رعنا صفوی نے کہا کہ ایودھیا اور فیض آباد ہمیشہ جڑواں شہروں کے طورپر جانے گئے ہیں۔ یہ ہندوستان کی گنگا جمنی تہذبی کی علامت ہیں۔

ذریعہ
یواین آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.