مدھیہ پردیش میں 50 گائیں زندہ دفن، بی جے پی رکن اسمبلی کا الزام

نارائنی نگر پنچایت کے اکزیکٹیو آفیسر اور سب کلکٹر نے مویشیوں کو یہاں گاؤشالہ میں زندہ دفن ہونے کے لئے رکھا تھا۔ رکن اسمبلی نے کہا کہ وہ اس سلسلہ میں چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ کو لکھ چکے ہیں۔

باندہ (یوپی): باندہ انتظامیہ نے بی جے پی کے ایک رکن اسمبلی کے اس الزام کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے کہ پڑوسی ضلع پنّا (مدھیہ پردیش) میں 50 گائیں اور دیگر مویشی زندہ دفن ہوگئے۔

بی جے پی رکن اسمبلی راج کرن کبیر نے چہارشنبہ کے دن پی ٹی آئی سے کہا کہ انہیں پیر کی شام مدھیہ پردیش کے ضلع پنا کے پہاڑی کھیڑا جنگل میں سڑک کنارے 7 گائیں اور دیگر مویشی زندہ درگور ملے۔

6 کا علاج مدھیہ پردیش میں چل رہا ہے جبکہ ایک گائے کو علاج کے لئے باندہ لایا گیا۔ رکن اسمبلی نے الزام عائد کیا کہ وہاں 50 سے زائد گائیں اور دیگر مویشی زندہ دفن ہوگئے۔

نارائنی نگر پنچایت کے اکزیکٹیو آفیسر اور سب کلکٹر نے مویشیوں کو یہاں گاؤشالہ میں زندہ دفن ہونے کے لئے رکھا تھا۔ رکن اسمبلی نے کہا کہ وہ اس سلسلہ میں چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ کو لکھ چکے ہیں۔

انہوں نے چیف منسٹر سے مطالبہ کیا کہ معاملہ کی تفصیلی تحقیقات کرائی جائیں اورخاطیوں کے خلاف کارروائی ہو۔ باندہ کے ضلع مجسٹریٹ انوراگ پٹیل نے تاہم دعویٰ کیا کہ مدھیہ پردیش میں جو گائیں پائی گئیں وہ ان کے ضلع کی نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تحقیقات کا حکم دے دیا گیا اور چیف ڈیولپمنٹ آفیسر سے اندرون 2 یوم رپورٹ مانگی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہفتہ کی شام 134 گائیں اور دیگر مویشی موتیاری غلہ منڈی میں واقع عارضی گاؤشالہ کسی مسئلہ کی وجہ سے لے جائے گئے تھے۔ بعدازاں انہیں 4 عارضی گاؤشالاؤں میں منتقل کیا گیا۔

پیر کے دن ایک اخبار میں خبر آئی کہ مدھیہ پردیش کے جنگل میں یہ مویشی زندہ دفن ہوگئے۔ اسی دوران بندیل کھنڈ کسان یونین کے قومی صدر ویمل کمار شرما نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی دورِ حکومت میں گائیوں پر بڑا ظم ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گائیں زندہ دفن ہونے کے معاملہ میں فوری کارروائی کی جائے ورنہ احتجاج کیا جائے گا۔

ذریعہ
پی ٹی آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.