مندرمیں غلطی سے داخل ہونے پر مسلم لڑکے سے پوچھ تاچھ

مندر کے پجاری یتی نرسگھانند سرسورتی نے الزام عائد کیا کہ کمسن لڑکے کو ان کی جاسوسی کے لئے بھیجا گیا اور اس لڑکے کی برادری میں اس کی عمر کے ”تربیت یافتہ قاتل“ موجود ہیں۔

غازی آباد: ایک 10 سالہ مسلم لڑکے کو غازی آباد کے ڈاسنہ دیوی مندر میں ”غلطی سے داخل ہونے“ پر پوچھ تاچھ کے لئے پولیس اسٹیشن لے جایا گیا۔ سوشیل میڈیا پر زیرگشت ویڈیو کلپ میں مندر کے پجاری یتی نرسگھانند سرسورتی نے الزام عائد کیا کہ کمسن لڑکے کو ان کی جاسوسی کے لئے بھیجا گیا اور اس لڑکے کی برادری میں اس کی عمر کے ”تربیت یافتہ قاتل“ موجود ہیں۔

 نرسنگھانند کو اس کے بازو موجود لڑکے پر یہ الزام عائد کرتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ وہ ”ریکی“ کرنے کے لئے مندر میں داخل ہوا۔ پجاری نے زور دے کر کہا کہ لڑکے کو نہ تو ہاتھ لگایا گیا اور نہ ہی تھپڑ مارا گیا۔ پجاری نے کہا کہ وہ چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ اور تمام سینئر پولیس عہدیداروں کو بتانا چاہتا ہے کہ اسے ہلاک کرنے کی سازش ہورہی ہے تاہم لڑکے نے پولیس کو بتایا کہ وہ اپنی حاملہ بھاوج کو دیکھنے کے لئے یہاں آیا ہے جو مندر سے متصل کمیونٹی ہیلت سنٹر(سی ایچ سی) میں شریک ہے۔

 اس نے کہا کہ وہ اتفاق سے مندر میں داخل ہوگیا لیکن وہاں کے ذمہ داروں نے اسے پکڑکر پولیس کے حوالہ کردیا۔بچہ کے بیان کی صداقت کی جانچ کی گئی اور اسے چھوڑدیا گیا۔ سپرنٹنڈنٹ پولیس (رورل) نے پی ٹی آئی کو بتایا کہ لڑکے کا خاندان گزشتہ برس یہاں منتقل ہوا ہے اور وہ علاقہ سے زیادہ واقف نہیں ہے۔ نادانستہ طورپر وہ مندر میں داخل ہوگیا۔

 انہوں نے یہ بھی کہا کہ ڈاسنہ دیوی مندر کا مینجمنٹ پولیس سے تعاون نہیں کررہا ہے۔ وہ جاریہ نوراتری کے دوران مندر آنے والوں کے شناختی کارڈس کی جانچ کرنے نہیں دے رہا ہے۔ سابقہ واقعات کے مدنظر سخت چیکنگ جاری ہے۔ پجاری کو سیکوریٹی فراہم کرنے 50 ملازمین پولیس تعینات کردیئے گئے ہیں۔

 قبل ازیں جاریہ سال ایک مسلم لڑکا پانی پینے کے لئے مندر میں داخل ہوا تھا۔ اس پر حملہ کردیا گیا تھا۔10  اگست کو مندر کے احاطہ میں ایک سادھو پر نامعلوم قاتل نے اس وقت چاقو سے حملہ کیا تھا جب وہ وہاں سویا ہوا تھا۔

ذریعہ
پی ٹی آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.