مولانا کلیم صدیقی کی گرفتاری کے خلاف علی گڑھ میں احتجاج

یادداشت میں انہوں نے کہا کہ مبینہ غیرقانونی دھرم پریورتن کے نام پر بعض مسلم علماء کی گرفتاری اور آسام میں شہریت کے مسئلہ پر مسلمانوں کو ہراسانی سے مسلمانوں کے ذہنوں میں خوف اور عدم سلامتی پیدا ہورہی ہے۔

علی گڑھ / لکھنو: ممتاز عالم دین مولانا کلیم صدیقی کی گرفتاری کے خلاف علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کیمپس میں جمعہ کے دن طلبا نے  مارچ نکالا۔

مولانا کو میرٹھ سے گزشتہ ہفتہ گرفتار کیا گیا تھا اور مقامی عدالت انہیں 5  اکتوبر تک عدالتی تحویل میں دے چکی ہے۔

لکھنو میں اترپردیش اے ٹی ایس (انسدادِ دہشت گردی دستہ) نے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ مولانا کلیم صدیقی اور ایک اور ملزم محمد عمر گوتم کے تعلق سے کوئی جانکاری ہو تو پولیس کو دیں۔

 علی گڑھ میں احتجاجیوں نے صدرجمہوریہ کے نام یادداشت اے ایم یو کے ایک سینئر عہدیدار کو سونپی۔

یادداشت میں انہوں نے کہا کہ مبینہ غیرقانونی دھرم پریورتن کے نام پر بعض مسلم علماء کی گرفتاری اور آسام میں شہریت کے مسئلہ پر مسلمانوں کو ہراسانی سے مسلمانوں کے ذہنوں میں خوف اور عدم سلامتی پیدا ہورہی ہے۔

 یادداشت میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اقلیتوں کا ایسا تعاقب ملک میں امن و استحکام کے لئے خطرہ پیدا کرے گا۔ دہلی کے جامعہ نگر کے رہنے والے مفتی قاضی جہانگیر عالم قاسمی اور محمد عمر گوتم کی گرفتاری کے لگ بھگ 3 ماہ بعد مولانا کلیم صدیقی کو گرفتار کیا گیا۔

 مفتی قاضی جہانگیر عالم قاسمی اور محمد عمر گوتم اسلامی دعوۃ سنٹر چلارہے تھے جس پر الزام ہے کہ وہ آئی ایس آئی کی فنڈنگ سے گونگے بہرے بچوں کو مسلمان بنارہاتھا۔ اے ٹی ایس‘ مولانا کلیم صدیقی کے بشمول تاحال 11  افراد کو تبدیلیئ مذہب ریاکٹ کیس میں گرفتار کرچکی ہے۔

ذریعہ
پی ٹی آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.