پرینکا گاندھی پھر زیرحراست

ویڈیو میں کانگریس قائد اور پولیس کی بات چیت سنی جاسکتی ہے۔ پرینکا گاندھی پوچھ رہی ہیں کہ میں جہاں بھی جاتی ہوں کیا مجھے وہاں اجازت لینا ہوگا؟۔ اس پر پولیس عہدیدار جواب دیتا ہے کہ یہ نظم وضبط کا مسئلہ ہے۔

لکھنو: کانگریس قائد پرینکا گاندھی وڈرا کو لکھنو پولیس نے لکھنو ایکسپریس وے پر اُس وقت حراست میں لے لیا جب وہ پولیس تحویل میں دم توڑنے والے ایک دلت کے ارکان خاندان سے ملنے آگرہ جارہی تھیں۔ ان کی کار کو لکھنو۔ آگرہ ایکسپریس وے کے پہلے ٹول پلازہ پر روک لیا گیا۔قبل ازیں جاریہ ماہ پرینکا گاندھی کو سیتاپور میں اُس وقت حراست میں لیا گیا تھا جب وہ 3  اکتوبر کے تشدد میں ہلاک کسانوں کے خاندانوں سے ملنے لکھیم پور کھیری جارہی تھں۔

آج روکے جانے کے بعد پرینکا گاندھی نے ٹویٹ کیا کہ حکومت کس بات سے اتنی خوفزدہ ہے؟۔ ارون والمیکی نے پولیس تحویل میں دم توڑا۔ اس کا کنبہ انصاف چاہتا ہے۔ میں غمزدہ کنبہ سے ملنا چاہتی ہوں۔ حکومت ِ اترپردیش کس بات سے خوفزدہ ہے؟ مجھے کیوں روکا جارہا ہے؟۔ آج والمیکی جینتی ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے آج گوتم بدھ کے تعلق سے بڑی بڑی باتیں کہی ہیں۔

تصویر میں ویمن پولیس آفیسرس کو پرینکاگاندھی کے ساتھ سیلفی لیتے دیکھا جاسکتا ہے۔

پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ کانگریس قائد کو اس لئے روکا گیا کہ ان کے پاس درکار اجازت نامہ نہیں ہے۔ سوشیل میڈیا پر کئی تصاویر وائرل ہوئیں جن میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پرینکا گاندھی کئی افرادبشمول پولیس والوں میں گھری ہوئی ہیں۔ وہ آگے بڑھنے کی کوشش کررہی ہیں۔ ایک اور تصویر میں ایک پولیس عہدیدار کو اُن کی گاڑی کے سامنے کھڑا دیکھا جاسکتا ہے۔

ویڈیو میں کانگریس قائد اور پولیس کی بات چیت سنی جاسکتی ہے۔ پرینکا گاندھی پوچھ رہی ہیں کہ میں جہاں بھی جاتی ہوں کیا مجھے وہاں اجازت لینا ہوگا؟۔ اس پر پولیس عہدیدار جواب دیتا ہے کہ یہ نظم وضبط کا مسئلہ ہے۔ ایک اور تصویر میں ویمن پولیس آفیسرس کو پرینکاگاندھی کے ساتھ سیلفی لیتے دیکھا جاسکتا ہے۔پس منظر میں پارٹی ورکرس نعرے بازی کررہے ہیں۔

چہارشنبہ کے دن صفائی کرمچاری ارو ن والمیکی کو پولیس اسٹرانگ روم سے 25 لاکھ روپے چوری ہونے کے سلسلہ میں گرفتار کیا گیا تھا۔ تفتیش کے دوران طبیعت بگڑنے سے بعد میں اس کی موت واقع ہوئی تھی۔ سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) آگرہ جی منی راج نے بتایا کہ منگل کی رات مکان پر دھاوے کے دوران ارون والمیکی کی طبیعت بگڑگئی تھی۔ اسے دواخانہ لے جایا گیا تھا لیکن ڈاکٹروں نے کہا تھا کہ وہ پہلے ہی دم توڑچکا ہے۔ ارون والمیکی پر ہفتہ کی رات ایک عمارت سے جس میں پولیس اسٹیشن کا ایویڈنس لاکر تھا‘ رقم چرانے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ وہ وہاں صاف صفائی کیا کرتا تھا۔ اس کے کنبہ کا دعویٰ ہے کہ اس کی موت حوالات میں اذیت دینے کی وجہ سے ہوئی۔

2 گھنٹے بعد آگرہ جانے کی اجازت دی گئی

 تاخیر سے موصولہ اطلاع کے بموجب کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی وڈرا کو لکھنومیں لگ بھگ 2 گھنٹے روکے رکھنے کے بعد آخرکار آگرہ جانے کی اجازت دے دی گئی۔ کانگریس قائد کو 4  افراد کے ساتھ آگرہ جانے کی اجازت دی گئی کیونکہ دفعہ 144 نافذ ہے۔ وہ صدر پردیش کانگریس اجئے کمار للو‘آچاریہ پرمود کرشنن اور رکن قانون ساز کونسل دیپک سنگھ کے ساتھ آگرہ روانہ ہوگئیں۔ قبل ازیں پرینکا نے کہا تھا کہ وہ جہاں بھی جاتی ہیں انہیں روک دیا جاتا ہے۔

ذریعہ
آئی اے این ایس

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.