پرینکا گاندھی کا لکھنومیں ”مون ورت“

یوپی کے دارالحکومت میں مون ورت سہ پہر 3 بجے شروع ہوا جبکہ مابقی ملک میں کانگریس نے صبح 10 بجے تا دوپہر 1 بجے اس کا اہتمام کیا۔

لکھنو: کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی وڈرا نے مرکزی وزیر اجئے مشرا تینی کی برطرفی کے اپنے مطالبہ کی تائید میں لکھنو میں پیر کے دن مون ورت(خاموش احتجاج) کی قیادت کی۔ اجئے مشرا کا لڑکا اپنی ایس یو وی سے کسانوں کو کچل دینے کا ملزم ہے۔

یوپی کے دارالحکومت میں مون ورت سہ پہر 3 بجے شروع ہوا جبکہ مابقی ملک میں کانگریس نے صبح 10 بجے تا دوپہر 1 بجے اس کا اہتمام کیا۔ کانگریس قائدین بشمول ریاستی سربراہ اجئے کمار للو‘ سابق ارکان پارلیمنٹ پرمود تیواری‘ پی ایل پونیا اور کانگریس لیجسلیچر پارٹی قائد آرادھنا مشرا نے پرینکا کے ساتھ بیٹھ کر خاموش احتجاج کیا۔

ان لوگوں نے جو پلے کارڈس تھام رکھے تھے ان پر مرکزی وزیر کی برطرفی کا مطالبہ درج تھا۔ پارٹی قائدین نے جی پی او پارک میں مہاتما گاندھی کے مجسمہ کے سامنے بیٹھ کر احتجاج کیا۔ پرینکا گاندھی‘ لکھیم پور کھیری واقعہ کے ملزمین کے خلاف مہم کی قیادت کررہی ہیں۔ وہ مہلوک کسانوں کے کنبوں سے ملاقات کے لئے موضع تکونیہ جانے کے دوران گرفتار تک ہوچکی ہیں۔

اتوار کے دن وارانسی میں اپنی ریالی میں انہوں نے اعلان کیا تھا کہ مرکزی وزیر کے مستعفی ہونے تک وہ اپنی لڑائی جاری رکھیں گی۔ پی ٹی آئی کے بموجب کانگریس قائدین نے پیر کے دن پارٹی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی وڈرا کی قیادت میں خاموش احتجاج کیا۔ وہ مرکزی وزیر اجئے مشرا کی گرفتاری کا مطالبہ کررہے تھے۔

کانگریسیوں نے لکھنو میں مہاتما گاندھی کے مجسمہ کے سامنے مون ورت رکھا۔ یہ مجسمہ جی پی او پارک میں واقع ہے۔ وارانسی میں کل ریالی سے خطاب میں پرینکا گاندھی نے کہا تھاکہ کانگریس ورکرس کسی سے بھی نہیں ڈرتے چاہے انہیں جیل میں ڈالو یا ماروپیٹو۔ ہم مرکزی وزیر کے استعفیٰ تک اپنی لڑائی جاری رکھیں گے۔ ہماری پارٹی نے ملک کی آزادی کے لئے لڑائی لڑی تھی۔

ہمیں کوئی بھی خاموش نہیں کرسکتا۔ یوپی کے وزیر سدھارتھ ناتھ سنگھ نے تاہم کہا کہ قانون اپنا کام کرے گا۔ وہ کسی بھی قسم کے دباؤ میں نہیں آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس قائدین مون ورت رکھنا چاہتے ہیں یا احتجاج کرنا چاہتے ہیں تو یہ ان کا جمہوری حق ہے۔

منموہن سنگھ پر بظاہر طنز میں حکومت یوپی کے ترجمان نے کہا کہ ایک وزیراعظم نے 10 سال تک مون ورت رکھا تھا۔سدھارتھ ناتھ سنگھ نے پوچھا کہ راجستھان اور چھتیس گڑھ میں احتجاج کیوں نہیں ہورہا ہے جبکہ ان 2 ریاستوں میں ان کے بقول دلتوں اور کسانوں کے ساتھ زیادتی ہورہی ہے۔

ذریعہ
آئی اے این ایس

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.