کرشن جنم بھومی معاملہ، شاہی مسجد عیدگاہ کے فریق کا اعتراض درج

رنجنا اگنی ہوتری اینڈ دیگر بمقابلہ شاہی مسجد عیدگاہ معاملہ میں ڈسٹرکٹ جج وویک سنگھل کی عدالت میں دائر اعتراض میں کہا گیا ہے کہ مقدمہ وقت کی حد سے روکا گیا ہے کیونکہ یہ دونوں فریقوں کے درمیان 54 سال کے تصفیہ کے بعد دائر کیا گیا ہے۔

متھرا: اتر پردیش کے متھرا کی ایک عدالت میں شاہی مسجد عیدگاہ فریق کی جانب سے شری کرشن جنم بھومی سے متعلق ایک معاملہ میں کئی اعتراضات داخل کیے گئے ہیں۔

رنجنا اگنی ہوتری اینڈ دیگر بمقابلہ شاہی مسجد عیدگاہ معاملہ میں ڈسٹرکٹ جج وویک سنگھل کی عدالت میں دائر اعتراض میں کہا گیا ہے کہ مقدمہ وقت کی حد سے روکا گیا ہے کیونکہ یہ دونوں فریقوں کے درمیان 54 سال کے تصفیہ کے بعد دائر کیا گیا ہے۔

سوٹ کا تصفیہ 68-1967 میں ہوا تھا جس کی ڈکری 1974 میں ہوئی تھی۔شاہی مسجد عیدگاہ کے سکریٹری اور اس معاملہ کے وکیل تنویر احمد نے اپنی دلیل میں کہا ہے کہ اگر 1974 سے وقت کی گنتی کی جائے تو 47 سال بعد مقدمہ دائر کیا گیا ہے اور اگر 1968 سے گنتی کی جائے تو یہ مقدمہ 54 سال بعد دائر کیا گیا ہے۔

بحث میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کورٹ فیس نہ صرف کم جمع کرائی گئی ہے بلکہ اس کا حساب موجودہ شرح پر ہونا چاہیے تھا۔ اس کے علاوہ جو نقشہ مخالفین نے سوٹ میں دائر کیا ہے وہ ناقص ہے اور متعلقہ کاغذات جو سوٹ میں منسلک کیے گئے ہیں ان میں بھی کمی ہے کیونکہ سوٹ کسی معاملہ کے لیے بنایا گیا ہے اور کچھ کاغذات اس سے متعلق نہیں ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ یہ مقدمہ سی پی سی 7 کے رول 11 کی حمایت نہیں کرتا۔ اس کے علاوہ چونکہ مدعی رنجنا اگنی ہوتری اور دیگر اصل ٹرسٹ کے ٹرسٹی نہیں ہیں‘ انہیں مقدمہ دائر کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ مدعی نے ایڈوکیٹ ہری شنکر جین کے ذریعہ خود کو شری کرشنا وراجمان کا دوست بتایا ہے جبکہ ایسے دوستوں کی تعداد کروڑوں میں ہوسکتی ہے۔

جمعہ کو ہونے والی بحث مکمل نہیں ہو سکی اس لیے بحث آئندہ سماعت یعنی 11 نومبر کو جاری رہے گی۔

ذریعہ
یو این آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.