کیرالا میں ایک جوڑا دیگ میں بیٹھ کر شادی کے مقام تک پہونچا

کیرالا کے ایک جوڑے نے اس بات کو ثابت کیاہے اورموسلادھاربارش کے بعدسیلاب کی صورتحال پیدا ہوجانے کے مدنظر ایک بڑے دیگ میں بیٹھ کر اس مقام تک پہونچے جہاں شادی مقرر کی گئی تھی۔

الاپوزا: محبت بندشوں کی محتاج نہیں ہوتی حتیٰ کے قدرتی آفت بھی محبت کے راستہ میں رکاوٹ نہیں بنتی۔

کیرالا کے ایک جوڑے نے اس بات کو ثابت کیاہے اورموسلادھاربارش کے بعدسیلاب کی صورتحال پیداہوجانے کے مد نطر ایک بڑے دیگ میں بیٹھ کر اس مقام تک پہونچے جہاں شادی مقرر کی گئی تھی۔

آکاش اورایشوریہ نے المونیم کے دیگ کا استعمال کشتی کے طورپر کیا۔ ان دونوں نے بین طبقاتی شادی کی ہے۔ آکاش نے ’پی ٹی آئی‘ کوبتایاکہ انہوں نے5۔ اکتوبرکواپنی شادی کارجسٹریشن کروایا۔

بعد میں انہوں نے طئے کیاکہ ہندورسوم کے مطابق شادی کریں گے لیکن ان کے ٹاؤن کے قریب زیادہ تر مندروں میں 15 دن قبل بکنگ کروانی پڑتی ہے۔ کافی تلاش کے بعد آخر تھیاوادی میں ایک مندر انہیں مل گئی جس کے انتظامیہ نے پیرکے دن شادی کی میزبانی سے اتفاق کیا۔

انہوں نے کہاکہ شدید بارش کی وجہ سے ہم نے سمجھاکہ صرف قریبی دوست اور خاندان کے لوگ ہی شرکت کریں گے لیکن دیگ میں بیٹھ کرویڈنگ ہال تک پہونچنے کے سفرکی بدولت ہرکوئی شادی کے بارے میں جان گیااوراس تقریب کو شہرت حاصل ہوئی ہے۔ آکاش اورایشوریہ دونوں ہیلتھ ورکرس ہیں۔

ذریعہ
پی ٹی آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.