گوا کو ”کول ہب“ بننے نہیں دیں گے: راہول گاندھی

راہول گاندھی نے پٹرول اور ڈیزل کی اونچی قیمت کے سوال پرکہا کہ اس کے لئے مرکز کی بی جے پی کی قیادت والی حکومت ذمہ دار ہے جس نے پٹرولیم ایندھن پر زیادہ ٹیکس لگایا ہے۔

پنجی: کانگریس قائد راہول گاندھی نے ہفتہ کے دن وعدہ کیا کہ گوا کو ”کول ہب“(کوئلہ کا مرکز) بننے نہیں دیا جائے گا۔ نہوں نے کہا کہ کانگریس گوا اسمبلی الیکشن 2022 کے لئے اپنے منشور میں جو تیقنات دے گی انہیں انتخابی وعدوں کی تکمیل کی ضمانت مانا جائے۔

جنوبی گوا کے ساحلی موضع ولساؤ میں میں مچھیروں کے گروپ سے بات چیت میں انہوں نے کہا کہ ساحلی ریاست کو اس کی اصلی حالت میں نہ صرف مقامی لوگوں کے لئے بلکہ گوا کے ساحل اور ماحول سے لطف اندوز ہونے کے لئے آنے والوں کے لئے محفوظ رکھنا چاہئے۔

 راہول گاندھی نے کہا کہ مجھے یہاں کا سمندر پسند ہے۔ بعض اوقات جب میری ماں کی طبیعت ٹھیک نہیں رہتی تو وہ یہاں آجاتی ہیں۔ ہندوستان کے ہزاروں لوگوں کو یہاں کا سمندر اچھا لگتا ہے۔

ان سے پوچھا گیا کہ ریاست کے ماحولیات سے متعلق بنیادی ڈھانچے کے پروجیکٹوں کا مقابلہ کرنے کیلئے کانگریس کی کیا پالیسی ہے؟ ایک شرکاء کا کہنا تھا کہ وزارت ریلوے اس پروجیکٹ کو جس انداز میں نافذ کر رہی ہے وہ شفاف نہیں ہے۔ یہاں سے درآمد شدہ کوئلہ کھلی ویگن کے ذریعہ کرناٹک لے جانے کا منصوبہ ہے۔ اس سے ماحول اور گاؤں والوں کو نقصان پہنچے گا۔ سمندری اور سمندری حیات کو نقصان پہنچے گا۔

سال2009 سے گاؤں والے اس پروجیکٹ کی مخالفت کر رہے ہیں۔ تین چار سال قبل وزارت کو لکھا گیا تھا کہ بند کوچوں میں کوئلہ کی ڈھلائی کی جائے لیکن کوئی جواب نہیں آیا۔

گاندھی کے ساتھ سابق وزیر خزانہ پی چدمبرم، کانگریس لیڈر دنیش گڈوراؤ، ریاستی کانگریس صدر گریش چوڈانکر اور قانون ساز اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ڈگمبر کامت بھی تھے۔

راہول گاندھی نے پٹرول اور ڈیزل کی اونچی قیمت کے سوال پرکہا کہ اس کے لئے مرکز کی بی جے پی کی قیادت والی حکومت ذمہ دار ہے جس نے پٹرولیم ایندھن پر زیادہ ٹیکس لگایا ہے۔ آج ہندوستان میں سب سے زیادہ پٹرولیم ٹیکس ہے۔ اس کا پیسہ ہی کوئلہ مرکز جیسے پروجیکٹوں پر خرچ ہو رہا ہے۔ اس سے مٹھی بھر لوگ مستفید ہو رہے ہیں۔

کانگریس لیڈر نے کہا ’’کچھ لیڈروں کے برعکس، میری ساکھ میرے لیے اہم ہے۔ میں یہاں جو کچھ کہوں گا اسے یہاں لاگو کرنا چاہوں گا۔ میں نے کہا ہے کہ ہم گوا کو آلودگی پھیلانے والے کوئلہ کا مرکز نہیں بننے دیں گے۔ یہ یقین دہانی کراتے ہوئے، اگر میں نہیں کرتا تو اگلی بار میری باتوں پر اعتبار نہیں کیا جائے گا‘‘۔

انہوں نے کہا کہ کانگریس نے چھتیس گڑھ، پنجاب اور کرناٹک میں کسانوں کے قرض معاف کرنے کا وعدہ کیا تو اسے پورا کیا۔

ذریعہ
یواین آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.