یونیورسٹی نصاب سے جے پی اور لوہیا کی آئیڈیالوجیز غائب

لالو پرساد یادو نے ٹویٹ کیا کہ میں نے 30سال قبل جئے پرکاش جی کے نام پر یونیورسٹی قائم کی تھی۔ اب بہار کی سنگھی حکومت اور سنگھی ذہنیت کے عہدیدار عظیم سوشلسٹ رہنماؤں جے پی ور لوہیا کی آئیڈیالوجی کو نصاب سے ہٹارہے ہیں۔

پٹنہ: آر جے ڈی صدر لالو پرساد یادو نے جئے پرکاش نارائن یونیورسٹی چھپرہ کے نصاب سے سوشلسٹ رہنماؤں جئے پرکاش نارائن(جے پی) اور رام منوہر لوہیا کی آئیڈیالوجی کو ہٹادینے کے اقدام کو ”ناقابل برداشت“ قراردیا ہے۔

جئے پرکاش نارائن اور لوہیا کے نظریات کو یونیورسٹی کے پوسٹ گریجویٹ کورس(پولیٹکل سائنس/ سیاسیات) کے نصاب سے ہٹادیا گیا۔

لالو پرساد یادو نے ٹویٹ کیا کہ میں نے 30سال قبل جئے پرکاش جی کے نام پر یونیورسٹی قائم کی تھی۔ اب بہار کی سنگھی حکومت اور سنگھی ذہنیت کے عہدیدار عظیم سوشلسٹ رہنماؤں جے پی ور لوہیا کی آئیڈیالوجی کو نصاب سے ہٹارہے ہیں۔

یونیورسٹی‘ جئے پرکاش نارائن کے نام پر قائم ہوئی اور ان ہی کا باب نئے نصاب سے ہٹادیا گیا۔ یہ ناقابل برداشت ہے۔ ریاستی حکومت کو اس کا نوٹ لینا چاہئے۔

یونیورسٹی نے جے پی اور لوہیا کے علاوہ دیانند سرسوتی‘ راجہ رام موہن رائے‘ بال گنگادھر تلک اور ایم این رائے کی آئیڈیالوجیز کو بھی ہٹادیا۔ وہ دین دیال اُپادھیائے‘ نیتاجی سبھاش چندر بوس اور جیوتی راؤپھولے کی آئیڈیالوجیز کو بھی ہٹادینے کا ارادہ رکھتی ہے۔

یونیورسٹی قائم ہونے کے بعد سے طلبا ان عظیم قائدین کی سوانح پڑھ رہے تھے۔

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.