یوپی اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کا صفایا یقینی: اکھلیش

ایس پی میں شامل ہونے والوں میں سیتا پور کے بی جے پی رکن اسمبلی اور بی ایس پی کے باغی ارکانِ اسمبلی شامل ہیں، جنہوں نے اکھلیش یادو کو ایک بار پھر چیف منسٹر بنانے کا عہد کیا ہے۔

لکھنؤ: اترپردیش میں آج اکھلیش یادو کی موجودگی میں 7 ارکانِ اسمبلی نے سماج وادی پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی جن کے منجملہ ایک کا تعلق بی جے پی سے اور 6 کا تعلق بی ایس پی سے ہے جو معطل شدہ ہیں۔ اکھلیش یادو نے چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ کو نشانہ تنقید بنایا اور دعویٰ کیا کہ بی جے پی اور کانگریس دونوں ایک جیسے ہیں۔

 ایس پی صدر نے حکمراں جماعت کو اس کے ایک رکن اسمبلی راکیش راٹھور کے انحراف پر نشانہ تنقید بناتے ہوئے کہا کہ ریاست کے عوام اتنے برہم ہیں کہ آنے والے دنوں میں بی جے پی کا صفایا ہوجائے گا اور بھاجپا پریوار (بی جے پی خاندان) ”بھاگتا پریوار“ (بھگوڑا خاندان“ نظر آئے گا۔ ایس پی صدر نے اشارہ دیا کہ بی جے پی کے بعض دیگر قائدین بھی ان کے ساتھ ربط میں ہیں۔

ایس پی میں شامل ہونے والوں میں سیتا پور کے بی جے پی رکن اسمبلی راکیش راٹھور اور بی ایس پی کے باغی ارکانِ اسمبلی اسلم رینی (شراوتی)، سشما پٹیل (مدیانند)، اسلم علی (ہاپور)، حکیم لال بن (ہندیا)، مجتبیٰ صدیقی (پھولپور) اور ہرگووِند بھارگو (سدھولی) شامل ہیں، جنہوں نے آنے والے انتخابات میں اکھلیش یادو کو ایک بار پھر چیف منسٹر بنانے کا عہد کیا ہے۔

یادو نے ٹوئٹر کا سہارا لیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اگر بی جے پی 403 چیف منسٹرس کا بھی اعلان کردے تب بھی اسے کافی تعداد میں امیدوار نہیں ملیں گے، کیوں کہ اسمبلی انتخابات میں پارٹی کو شکست ہونے کا امکان ہے۔ یوپی اسمبلی میں ارکان کی تعداد 403 ہے۔

جاریہ سال کے اوائل میں راٹھور کا ایک آڈیو کلپ وائرل ہوا تھا، جس میں انہوں نے کووِڈ 19 کی وبا کے دوران لوگوں کو تالی بجانے اور تھالیاں بجانے کی ہدایت دینے پر وزیر اعظم نریندر مودی کو نشانہ تنقید بنایا تھا۔

بعدازاں پارٹی قیادت نے انہیں اپنی مبینہ مخالف پارٹی سرگرمیوں کی وضاحت کرنے کے لیے کہا تھا۔ بی ایس پی کے باغی ارکان نے اکتوبر 2020ء میں پارٹی کے باضابطہ امیدوار رام جی گوتم کو راجیہ سبھا کے لیے نامزد کرنے کی مخالفت کی تھی۔

 انہوں نے جاریہ سال کے اوائل میں مبینہ طور پر اکھلیش یادو سے ملاقات کی تھی اور یہ اشارہ دیا تھا کہ وہ لوگ جلد اپنی پارٹی تبدیل کرلیں گے۔ اکھلیش یادو نے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کو یہ کہنے پر بھی نشانہئ تنقید بنایا ہے کہ بی جے پی کے انتخابی منشور کا 90 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے اور مابقی 10 فیصد کام لوک لالین سنکلپ پتر میں مکمل کرلیا جائے گا۔

 آئندہ چند ماہ میں یہ کام شروع کیا جائے گا۔ یادو نے کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بی جے پی قائدین نے اس کے صفحات کا مطالعہ نہیں کیا ہے اور یہ فراموش کرچکے ہیں کہ ان کے انتخابی منشور میں کیا تحریر کیا گیا تھا۔ انہوں نے 2017ء کے بی جے پی کے انتخابی منشور پڑھ کر سناتے ہوئے کہا کہ اس میں جو سب سے پہلے بات کہی گئی ہے وہ یہ ہے کہ کسانوں کی آمدنی دُگنی کرنے 2022ء تک ایک روڈ میاپ تیار کیا جائے گا۔

ذریعہ
پی ٹی آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.