یوپی میں عیسائی پادری پر جبری تبدیلی مذہب کا الزام

خبر ہے کہ لال بنگلہ علاقہ کے قاضی کھیڑہ کے گلاب ورما نے الزام عائد کیا کہ چند ماہ قبل ایک عیسائی پادری اور اس کے ساتھیوں نے اس کی بیوی اور 2 لڑکیوں کو پیسہ دے کر عیسائی بنادیا۔

کانپور: یوپی کے کانپور میں کئی ہندو کارکنوں نے ایک پادری اور اس کے ساتھیوں پر ایک کنبہ کے لوگوں کو جبراً عیسائی بنانے کا الزام عائد کیا۔ ہندو کارکنوں نے ہنگامہ برپا کردیا۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ پادری نے گمراہ کیا اور ایک شخص کی بیوی اور بیٹی کو عیسائی بنادیا۔ چکیری پولیس نے پادری کو حراست میں لے لیا اور معاملہ کی تحقیقات کررہی ہے۔

اسی دوران عیسائی لوگ بھی واقعہ کی اطلاع ملنے پر پولیس اسٹیشن پہنچ گئے۔ انہوں نے پولیس پر جانبداری برتنے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ پولیس نے پادری کے ساتھ غلط برتاؤ کیا۔

خبر ہے کہ لال بنگلہ علاقہ کے قاضی کھیڑہ کے گلاب ورما نے الزام عائد کیا کہ چند ماہ قبل ایک عیسائی پادری اور اس کے ساتھیوں نے اس کی بیوی اور 2 لڑکیوں کو پیسہ دے کر عیسائی بنادیا۔

اس نے کہا کہ اب اس کی بیوی اس پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ وہ بھی عیسائی بن جائے۔ اس پر گھر میں جھگڑے ہورہے ہیں۔

ایسا لگتا ہے کہ ورما نے مقامی ہندو کارکنوں کو یہ بات بتائی اور ان سے مددمانگی۔ انسپکٹر چکیری پولیس اسٹیشن مدھر مشرا نے بتایا کہ فریقین کو پولیس اسٹیشن لایا گیا تاکہ ان سے پوچھ تاچھ کی جائے۔ تحقیقات کے بعد آگے کی کارروائی ہوگی۔

ذریعہ
آئی اے این ایس

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.