یوپی میں مسلم آئی اے ایس عہدیدار پر مخالف ہندو پروپگنڈہ کا الزام

ایک اور ویڈیو میں افتخار الدین اپنے سرکاری بنگلہ میں فرش پر بیٹھے ہیں اور ایک عالم دین کا درس جاری ہے۔ ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد کمشنر کانپور پولیس اسیم ارون نے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر پولیس (ایسٹ) سومیندرمینا کو معاملہ کی تحقیقات کا حکم دیا۔

لکھنو: اترپردیش کی یوگی آدتیہ ناتھ حکومت نے سینئر آئی اے ایس عہدیدار محمد افتخار الدین کے مبینہ مخالف پروپگنڈہ کی تحقیقات  کیلئے خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی ہے۔ محکمہ داخلہ سے جاری بیان کے بموجب 2رکنی ایس آئی ٹی کے سربراہ ڈائرکٹر جنرل سی بی آئی میں جی ایل مینا ہوں گے۔ ایس آئی ٹی سے کہا گیا ہے کہ وہ اندرون 7یوم اپنی رپورٹ پیش کرے۔

یہاں اس بات کا تذکرہ بیجا نہ ہوگا کہ نائب صدر مٹھ مندر کوآرڈینیشن کمیٹی بھوپیش اوستھی نے الزام عائد کیا کہ افتخار الدین‘ ہندو مخالف پروپگنڈہ کر رہے ہیں۔ افتخار الدین فی الحال صدرنشین اترپردیش اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن ہیں۔ اوستھی نے سرکاری عہدیدار کے مذہبی پروگرامس کی ویڈیوز جاری کیا جو اس وقت کمشنر کانپور زون تھے۔ الزام ہے کہ ان ویڈیوز میں افتخار الدین نے لوگوں کو اسلام قبول کرنے کے قائدین بتارہے ہیں۔ ویڈیوز میں آئی اے ایس عہدیدار کے بازو ایک عالم دین کو بیٹھا دیکھا جاسکتا ہے۔

 ایک اور ویڈیو میں افتخار الدین اپنے سرکاری بنگلہ میں فرش پر بیٹھے ہیں اور ایک عالم دین کا درس جاری ہے۔ ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد کمشنر کانپور پولیس اسیم ارون نے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر پولیس (ایسٹ) سومیندرمینا کو معاملہ کی تحقیقات کا حکم دیا۔

 پتہ چلایا جارہا ہے کہ آیا ویڈیو‘ مستند ہے اور آیا اس میں جرم ہونے والی کوئی بات ہے۔ چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ نے اس سلسلہ میں پولیس کمشنر اسیم ارون کو لکھنو طلب کیا۔ اس دوران ڈپٹی چیف منسٹر کیشو پرساد موریہ نے کہا کہ یہ سنگین معاملہ ہے۔ اگر اس میں کوئی جرم ہے تو اسے سنجیدگی سے لیا جائے گا۔

ذریعہ
آئی ا ے این ایس

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.