یوگی۔ مودی کی تصویر پر بی جےپی ۔ ایس پی میں لفظی جنگ

اکھلیش یادو نے یوگی۔ مودی کی تصویر کا ذکر کئے بغیر ہی شاعرانہ انداز میں ٹوئٹ کر کے طنز کسا۔ انہوں نے لکھا'دنیا کی خاطر سیاست میں کبھی یوں بھی کرنا پڑتا ہے۔ بے من سے کندھے پر رکھ ہاتھ کچھ قدم سنگھ چلنا پڑتا ہے'۔

لکھنؤ: وزیر اعظم نریندر مودی اور اترپردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کی اتوار کو گفتگو کرتے ہوئے تصاویر کے سلسلے میں اپوزیشن اور حکمراں جماعت کے درمیان سوشل میڈیا پر شاعرانہ انداز میں خوب طنزیہ تیر چلے۔ اس کاآغاز دوپہر تقریبا ساڑھے بارہ بجے یوگی کے اس ٹوئٹ سے ہوا جس میں انہوں نے مودی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے اپنی دو تصاویر سوشل میڈیا پر شئیر کیں۔ مودی۔ایک تصویر میں یوگی کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بات کرتے ہوئے گلیارے سے گذرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ ان تصاویر کے ساتھ یوگی نے ایک ہندی نظم کی چند لائنیں لکھی ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ وزیر اعظم مودی ڈائرکٹر جنرلس آف پولیس کے قومی سمیلن میں شرکت کے لئے گذشتہ دو دنوں سے لکھنؤ میں ہیں۔ اس دوران یوگی سے ہوئی ان کی ملاقات کی تصاویر سوشل میڈیا پر نمایاں ہوئی۔اس کے کچھ دیر بعد بی جے پی کی ریاستی اکائی کے ٹوئٹر ہینڈل سے یوگی کے اس ٹوئٹ کو شیئر کیا گیا ہے۔ اس پر سماج وادی پارٹی(ایس پی)سربراہ اکھلیش یادو نے یوگی۔مودی کی تصویر کا ذکر کئے بغیر ہی شاعرانہ انداز میں ٹوئٹ کر کے طنز کسا۔ انہوں نے لکھا’دنیا کی خاطر سیاست میں کبھی یوں بھی کرنا پڑتا ہے۔ بے من سے کندھے پر رکھ ہاتھ کچھ قدم سنگھ چلنا پڑتا ہے’۔

اس کے بعد جواب میں ریاستی بی جے پی نے اکھلیش کا ایک پرانا ویڈیو شیئر کیا جس میں پارٹی کے اندر گھمسان کے دروان غصے میں ایس پی فاونڈ ملائم سنگھ یادو سے مائیک چھنتے دکھ رہے ہیں۔ اکھلیش کے ٹوئٹ کو ٹیگ کرتے ہوئے ریاستی بی جےپی نے اس ویڈیو کے ساتھ لکھا’گدی چھیننے کے لئے سیاست میں پارٹی کو یوں بھی ہتھیانا پڑتا ہے۔ والد،چچا جو بھی ہو ں ان کو درکنار کرناپڑتا ہے’انہوں نے اس واقعہ کو یاد دلاتے ہوئے یہ بھی لکھا’سمجھ گئے نہ کس کی بات ہورہی ہے؟یا ہے نہ کہیں بھولے تو نہیں؟۔

ان دونوں ٹوئٹ پر ایس پی اور بی جے پی حامیوں نے سوشل میڈیا پر تصویریروں،ویڈیوں اور شیر و شاعری کے ساتھ ایک دوسرے پر جم کر طنز بھرے حملے تیز کردئیے۔

ذریعہ
یواین آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.