یکساں سیول کوڈ کے نفاذ کو یقینی بنانے مرکز پہل کرے: الہ آباد ہائی کورٹ

جسٹس سنیت کمار نے اس احساس کا اظہار کیاکہ یکساں سیول کوڈ کا مسئلہ اگرچہ دستوری ہے مگر جب کبھی اس مسئلہ کو اٹھایا جاتا ہے سیاسی الٹ پلٹ شروع ہوجاتی ہے اور پبلک ڈومین میں مباحثے شروع ہوجاتے ہیں۔

الٰہ آباد: الہ آباد ہائی کورٹ نے مرکز پر زور دیا کہ دستور کی دفعہ 44 کے منشور پر عمل آوری پر غور کرے، جو یہ کہتا ہے کہ ’مملکت کو بھارت کی ساری عمل داری میں یکساں سیول کوڈ کے نفاذ کے لئے کوشش کرنی چاہئے۔ نیوز پورٹل ’لائیو لاء‘ کے مطابق درخواست گزاروں کی بین مذہبی شادیوں اور عدالت سے تحفظ طلب کرنے سے متعلق الہ آباد ہائی کورٹ نے جمعرات کو مرکز سے کہا کہ دستور ہند کے آرٹیکل 44 کے لزوم پر عمل درآمد کیا جائے۔

جسٹس سنیت کمار نے اس احساس کا اظہار کیاکہ یکساں سیول کوڈ کا مسئلہ اگرچہ دستوری ہے مگر جب کبھی اس مسئلہ کو اٹھایا جاتا ہے سیاسی الٹ پلٹ شروع ہوجاتی ہے اور پبلک ڈومین میں مباحثے شروع ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے شادی اور خاندانی قوانین کی کثرت کے پیش نظریکساں سیول کوڈپر عمل آوری کرنے پر زور دیا۔ اپنی شادیوں کے رجسٹریشن اور خانگی مدعی علیہان سے تحفظ فراہم کرنے کی استدعا کے ساتھ بین مذہبی جوڑوں کی جانب سے دائر کردہ 17 درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے جسٹس سنیت نے کہاکہ یہ وقت کی ضرورت ہے کہ بین مذہبی شادی کرنے والے جوڑوں کو مجرمین کے تعاقب سے بچانے پارلیمنٹ ’واحدعائلی قانون‘کے ساتھ آگے آئے۔

 اب وہ مرحلہ آچکاہے کہ پارلیمنٹ کو چاہئے کہ مداخلت کرے اور جائزہ لے کہ آیا ملک کو شادی اور رجسٹریشن کے تکثیری قوانین چاہئے یا شادی کے فریقین کو ایک ’واحد عائلی قانون‘تلے لے آنا چاہئے۔ عدالت نے لاء کمیشن آف انڈیا کی 21 ویں رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے نوٹ کیا کہ لاء کمیشن کے یہ کہنے کے ایک سال بعد ہی کہ یونیفارم سیول کوڈ نہ ہی ضروری ہے اور نہ ہی اس مرحلہ پر اس کی ضرورت ہے، سپریم کورٹ نے جوز پال کوٹینہو اور ماریہ لوزیا کے کیس میں کہا تھا کہ یونیفارم سیول کوڈ لاگو کیا جانا چاہئے چونکہ ملک کے شہریوں کے لئے یہ مرحلہ آچکاہے۔ اس سلسلہ میں عدالت نے کہا کہ عدالت کے اپنے حدود ہیں اور یہ واحد سیول کوڈ کی فراہمی کے لئے جہدکار ی مؤقف اختیار نہیں کرسکتی اور یہ کہ پارلیمنٹ کو آگے آنا چاہئے اورایک کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے یا لاء کمیشن کو مشغول کرتے ہوئے یونیفارم سیول کوڈ کے نفاذ کے لئے پہل کا عمل شروع کرنا چاہئے۔

عدالت نے یکساں سیول کوڈ کے بھارتی آبادی پر امکانی اثر کے ادراک کی کوشش میں ہندو فیملی کوڈ کا حوالہ دیا، عدالت کی رائے میں جہاں تک عائلی قانون کو باقاعدہ بنانے کے قانون کا تعلق ہے، ہندو فیملی کوڈ کی تدوین یونیفارم سیول کوڈکے طور پر کی گئی اور شہریوں کو ایک مربوط اور’متحدہ ہندوشہری قوم‘کے طور پر مساوات اور برابری کے معیار پر جوڑا گیا۔اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ہندو معاشرہ پر ہندو فیملی کوڈ کااثر حیرت انگیز ہے، عدالت نے خیال ظاہر کیا کہ ہندو فیملی کوڈ نے مذہبی روایات کو غصب نہیں کیا۔

ہندو فیملی کورٹ کی توضیح کرتے ہوئے عدالت کا مشاہدہ تھا کہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ ہندو فیملی کوڈ، ہندؤں اور ’ہندو‘ کی تعریف میں آنے والی برادریوں کے لئے یکساں سیول کوڈ کے طور پر نگہبانی کررہا ہے اوریہ کہ یہ قانون 80 فیصد آبادی کا احاطہ کرتا ہے۔ قابل لحاظ طور پر مرکز نے نوٹ کیا کہ ہندو فیملی کوڈ روایتی ہندو سماج کی صورت گری کے لئے وضع کیا گیااور شاستر/مذہب سے ہندو پرسنل لاء کواس میں منتقل کیاگیا اور اسے پارلیمنٹ کے ڈومین میں رکھاگیا۔

عدالت نے محسوس کیا کہ جس امر پر پارلیمنٹ کی فوری توجہ مطلوب ہے وہ بین مذہبی ازدواجی تعلقات ہیں اور یہ نوٹ کیا کہ ایسے رشتوں کو باقاعدہ بنانے کا حل یونیفارم سیول کوڈ کو لاگو کرتے ہوئے قانون سازی کی مداخلت میں ہی مضمر ہے۔ آخر میں عدالت العالیہ نے ریمارک کیا کہ یونیفارم سیول کوڈ لاگو کرنے حکومت اگر ایک کمیٹی /کمیشن تشکیل دیتے ہوئے عمل کا آغاز کرنا چاہتی ہے تو اس کے لئے قابل لحاظ وقت لگے گا اس لئے یہ عمل فوری شروع کیا جاناچاہئے۔

ذریعہ
منصف ویب ڈیسک

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.