آسام میں تخلیہ کرائے گئے خاندانوں کیلئے 134 ہیکٹر اراضی مختص

حکومت نے اپنے حلف نامہ میں کہا کہ موضع ڈھلپور کے جنوبی حصہ نمبر ایک اور نمبر 3 میں تقریباً ایک ہزار بیگھہ (134 ہیکٹر) اراضی‘ تخلیہ کرائے گئے افراد کو دوبارہ بسانے کے لئے مختص کی گئی ہے جو اُن کے شہری ہونے کے ثبوت کے تابع رہے گی۔

گوہاٹی: حکومت آسام نے کہا ہے کہ اس نے ضلع درنگ کے گوروکھوٹی علاقہ میں 134 ہیکٹر اراضی مختص کی ہے تاکہ تخلیہ کردہ خاندانوں کو دوبارہ بسایا جاسکے بشرطیکہ ان کی شہریت کا ثبوت مل جائے۔ حکومت نے قائد اپوزیشن دیبابرتا سائیکیا کی جانب سے داخل کردہ مفادِ عامہ کی درخواست کے جواب میں گوہاٹی ہائی کورٹ میں داخل کردہ اپنے حلف نامہ میں کہا ہے کہ گوروکھوٹی کے ڈھلپور مواضعات سے جن خاندانوں کا تخلیہ کرایا گیا ہے انہیں کوئی معاوضہ ادا نہیں کیا جائے گا کیونکہ وہ ناجائز قابضین ہیں۔

حکومت نے اپنے حلف نامہ میں کہا کہ موضع ڈھلپور کے جنوبی حصہ نمبر ایک اور نمبر 3  میں تقریباً ایک ہزار بیگھہ (134 ہیکٹر) اراضی‘ تخلیہ کرائے گئے افراد کو دوبارہ بسانے کے لئے مختص کی گئی ہے جو اُن کے شہری ہونے کے ثبوت کے تابع رہے گی۔ اصل مقامات اور اضلاع میں ان کے بے زمین ہونے‘ شہریت کی جانچ کی جائے گی اور ریاست کی موجودہ بازآبادکاری پالیسی کے مطابق انہیں بسایا جائے گا۔

سیپاجھر ریونیو سرکل آفیسر کمل جیت سرما نے جو حکومت آسام کی نمائندگی کررہے تھے‘ اپنے حلف نامہ میں کہا کہ ان علاقوں کے مکین ناجائز قابضین تھے اور آسام کے لینڈ اینڈ ریونیو قانون 1886 کے تحت وضع کردہ اصولوں کے مطابق کسی بھی وقت ان کا تخلیہ کرایا جاسکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ صرف ناجائز قبضہ اور تخلیہ سے متعلق ہے۔ اس کا اراضی کے حصول سے کوئی تعلق نہیں اسی لئے دوبارہ بسانے‘ بازآبادکاری اور معاوضہ وغیرہ کا حصولِ اراضی قانون کے تحت سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

سائیکیا کے کیس کے علاوہ گوہاٹی ہائی کورٹ نے سیپاجھر میں پرتشدد تخلیہ مہم کے بعد ازخود ایک مفادِ عامہ کی درخواست درج کرلی تھی۔ بعدازاں ان دونوں درخواستوں کو یکجا کردیا گیا۔ چیف جسٹس سدھانشو دھولیہ اور جسٹس کاکھیتو سیما کی زیرقیادت بنچ نے چہارشنبہ کے روزاس معاملہ کی سماعت کی  اور تفصیلی جوابی حلف نامہ داخل کرنے ریاستی حکومت کو ایک ہفتہ کی مہلت دی۔

عدالت نے اس معاملہ کی آئندہ سماعت 14 دسمبر کو مقرر کی ہے۔ عدالت نے حکومت کے اس تیقن کا بھی نوٹ لیا کہ باقی مبینہ قابضین کے خلاف فی الحال کوئی جبری کارروائی نہیں کی جارہی ہے اور انہیں ازخود مختص کردہ علاقہ میں منتقل ہوجانے کی ترغیب دی جارہی ہے۔ حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ جب بھی ایسے اقدامات کئے جائیں‘ درخواست گزار کو اس عدالت میں درخواست داخل کرنے کی آزادی رہے گی۔

ذریعہ
پی ٹی آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.