میگھالیہ کانگریس کے 12 ایم ایل ایزٹی ایم سی میں شامل

اگر اسمبلی اسپیکر لنگڈوہ کانگریس کے ان 12 ایم ایل کو تسلیم کرتے ہیں، تو ترنمول ریاست کی واحد سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی بن جائے گی، جو 2018 میں اسمبلی میں اپنا کھاتہ بھی نہیں کھول سکی۔

شیلانگ: میگھالیہ میں کانگریس کے 12 ایم ایل کے ترنمول کانگریس میں شامل ہونے کے بعد جمعرات کو سبھی کی نگاہیں میگھالیہ اسمبلی اسپیکر میتباہ لنگڈوہ پر لگی ہوئی ہیں۔ پارٹی بدلنے پر اسپیکر کے فیصلے کا انتظار ہے۔ اس کے علاوہ سابق چیف منسٹر مکل سنگما کو اپوزیشن لیڈر منتخب کرنے پر بھی فیصلہ کیا جانا ہے۔ لنگڈوہ نے یو این آئی کو بتایا، ’’مجھے چہارشنبہ کی رات دیر گئے ایک خط ملا ہے جس پر کانگریس کے 12 ایم ایل کے دستخط ہیں۔ میں نے اسے ابھی تک قبول نہیں کیا۔ اس کی جانچ کی جائے گی اور دسویں شیڈول کی دفعات میں طئے شدہ طریقہ کار کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا۔

اہم بات یہ ہے کہ 60 رکنی میگھالیہ اسمبلی میں کانگریس کے 17 میں سے 12 ایم ایل نے کل رات اسپیکر کو ترنمول میں شامل ہونے کے لیے ایک خط سونپا۔ یہ پارٹی بدلنے والے ارکان اسمبلی کی تعداد قانون سازوں کی تعداد کا دو تہائی ہے، اس لیے پارٹی بدلنے کے خلاف قانون لاگو نہیں ہوگا۔ اگر اسمبلی اسپیکر لنگڈوہ کانگریس کے ان 12 ایم ایل کو تسلیم کرتے ہیں، تو ترنمول ریاست کی واحد سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی بن جائے گی، جو 2018 میں اسمبلی میں اپنا کھاتہ بھی نہیں کھول سکی۔ اس کے بعد ایوان میں اپوزیشن لیڈر سنگما ہوں گے۔

سنگما کی اہلیہ ڈکانچی ڈی شیرا، ان کی بیٹی میانی ڈی شیرا اور ان کے چھوٹے بھائی اور سابق وزیر زینتھ سنگما انضمام پر دستخط کرنے والوں میں شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ہی دیگر قانون سازوں میں اسمبلی کے سابق اسپیکر چارلس پانگروپ، سابق وزیر شٹلنگ پالے، ریاستی کانگریس کے سابق ورکنگ صدر مارتھن ڈی سنگما کے علاوہ جارج بی لنگڈوہ، ہمالیہ شانگپلانگ، جمی ڈی سنگما، وینرسن ڈی سنگما اور لازارس ایم شامل ہیں۔ سنگما نے بھی خط پر دستخط کر دیے ہیں۔

ذریعہ
یواین آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.