ہندولڑکے سے شادی کرنے والی مسلم لڑکی کو 66دن بعد بچا لیا گیا

پولیس کو پتہ چلا ہے کہ لڑکی لگ بھگ دو ماہ کی حاملہ ہے۔ پولیس تاحال 5افراد بشمول تپن دیبناتھ کو اس سلسلہ میں گرفتار کرچکی ہے جو ایک ہندو تنظیم کا قائد ہے۔ بشال گڑھ کی نویں جماعت کی طالبہ نے 23سالہ سمن سے لو میریج کی تھی اور ہندو بن گئی۔

اگرتلہ: تریپورہ پولیس نے اس 16سالہ مسلم لڑکی کو بچا لیا ہے جس نے ہندو لڑکے سے شادی کرلی تھی اور 66 دن سے لاپتہ تھی۔ پولیس نے منگل کے دن یہ بات بتائی۔ مغربی تریپورہ کے ضلع سپاہی جالا کے سپرنٹنڈنٹ پولیس  کریشیندو چکراورتی نے بتایا کہ پولیس ٹیم  نے لڑکی کو بچا لیا اور نوجوان سمن سرکار کو پیر کی رات دھرم نگر سے حراست میں لے لیا۔

 اب آگے کی کارروائی تریپورہ ہائیکورٹ کی اجازت سے ہوگی۔ پولیس کو پتہ چلا ہے کہ لڑکی لگ بھگ دو ماہ کی حاملہ ہے۔ پولیس تاحال 5افراد بشمول تپن دیبناتھ کو اس سلسلہ میں گرفتار کرچکی ہے جو ایک ہندو تنظیم کا قائد ہے۔ بشال گڑھ کی نویں جماعت کی طالبہ نے 23سالہ نوجوان سمن سرکار سے لو میریج کی تھی اور ہندو بن گئی۔

 یہ جوڑا 24جولائی سے لاپتہ تھا۔ پولیس نے ان کا پتہ چلانے زائد از دو ماہ ریاست بھر میں تلاشی مہم چلائی تھی۔ بعدازاں کیس کرائم برانچ کو سونپ دیا گیا تھا۔

 پولیس ابتداء میں جب حرکت میں نہیں آئی تو لڑکی کا باپ دلال میاں ہائیکورٹ سے رجوع ہوا تھا۔ چیف جسٹس عقیل قریشی اور جسٹس ستیہ گوپال چٹوپادھیائے پر مشتمل بنچ نے پولیس کو لڑکی کو ڈھونڈنے کی ہدایت دی تھی۔

ذریعہ
آئی اے این ایس

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.