مظفر نگرمہاپنچایت میں ہزاروں کسانوں کی شرکت

بھارتیہ کسان یونین (بی کے یو) کے قومی ترجمان راکیش ٹکیت نے کہا کہ ملک بھر میں ایسی پنچایتیں ہوں گی۔ کسانوں کوبچانا ہوگا‘ ملک کو بچانا ہوگا‘ تجارت ملازمین اور نوکریوں کوبچاناہے۔

لکھنو/مظفرنگر: اترپردیش اور پڑوسی ریاستوں کے ہزاروں کسان اتوار کے دن مظفر نگر میں ”کسان مہا پنچایت“ کیلئے اکٹھا ہوئے جس کا مقصد ”ملک کو بچانا“ ہے۔ وہ اترپردیش کے فیصلہ کن اسمبلی الیکشن سے چند ماہ قبل اکٹھا ہوئے۔ مرکز کے 3متنازعہ زرعی قوانین کے خلاف سمیوکت کسان مورچہ (ایس کے ایم) نے مظفر نگر کے گورنمنٹ انٹر کالج گراؤنڈ میں مہا پنچایت منعقد کی۔

 بھارتیہ کسان یونین (بی کے یو) کے قومی ترجمان راکیش ٹکیت نے کہا کہ ملک بھر میں ایسی پنچایتیں ہوں گی۔ کسانوں کوبچانا ہوگا‘ ملک کو بچانا ہوگا‘ تجارت ملازمین اور نوکریوں کوبچاناہے۔ ریالی کا یہی مقصد ہے۔ مہا پنچایت میں بی کے یو قائد کو چھڑی پیش کی گئی۔

اسی دوران بی جے پی رکن پارلیمنٹ ورون گاندھی نے اتوار کے دن احتجاجی کسانوں کو ”ہمارا خون“ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو کسانوں سے پھر سے بات چیت کرنی چاہیئے۔ بی کے یو میڈیا انچارج دھرمیندر ملک نے کہا کہ مختلف ریاستوں جیسے اترپردیش‘ ہریانہ‘ پنجاب‘ مہاراشٹرا‘ کرناٹک سے تعلق رکھنے والی 300تنظیموں نے مہا پنچایت میں حصہ لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شرکاء  کیلئے 5ہزار لنگر لگائے گئے۔ موبائیل اسٹال بھی لگائے گئے۔

 کسانوں بشمول عورتوں کو مختلف تنظیموں کے پرچم تھامے‘ مختلف رنگوں کی کیاپ لگائے‘ بسوں‘ کاروں اور ٹریکٹروں میں آتے دیکھا گیا۔ کرناٹک کی ایک مہیلا کسان نیتا نے کنڑ زبان میں خطاب کیا۔ اسی دوران مظفر نگر نظم ونسق نے راشٹریہ لوک دل(آر ایل ڈی) کے سربراہ جینت چودھری کو مہا پنچایت کے مقام اور شرکاء پر سے ہیلی کاپٹر کے ذریعہ پھول برسانے کی اجازت نہیں دی۔ سٹی مجسٹریٹ (کلکٹر) ابھیشیک سنگھ نے کہا کہ سکیوریٹی وجوہات پر اجازت نہیں دی جاسکتی۔

مظفر نگر میں مرکزی وزیر سنجیو بلیان‘ نے اور بی جے پی رکن اسمبلی اومیش ملک کے بنگلہ پر بطور احتیاط پولیس تعینات کردی گئی۔ ایس کے ایم نے ہفتہ کے دن دعویٰ کیا کہ 15ریاستوں سے ہزاروں کسان مہا پنچایت میں آئیں گے۔ اس نے کہا تھا کہ 5ستمبر کی مہا پنچایت یوگی۔مودی حکومتوں کو کسانوں‘ مزدوروں اور کسان تحریک کے حامیوں کی طاقت بتادے گی۔ مظفر نگر میں پنچایت پچھلے 9ماہ کی سب سے بڑی پنچایت ہوگی۔ مہا پنچایت میں شرکت کرنے والے کاشتکاروں کیلئے 100میڈیکل کیمپس لگائے گئے۔ کسان احتجاج کو زائد از 9ماہ ہوچکے ہیں۔  (پی ٹی آئی)

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.