چیف منسٹر چھتیس گڑھ کے والد کو جیل بھیج دیا گیا

برہمن سماج کے دو افراد نے چیف منسٹر کے والد نندکمار بگھیل کے خلاف ان کے برہمنوں کے خلاف دیے بیان کےوائرل ہونے والے ویڈیوز کا حوالہ دیتے ہوئے 153 (اے) اور دفعہ 505 کے تحت مقدمہ درج کروایا تھا۔

رائے پور: سماجی تفریق اور عناد پھیلانے کے الزام میں گرفتار چھتیس گڑھ کے چیف منسٹر بھوپیش بگھیل کے والد نند کمار بگھیل کو رائے پور کی ایک عدالت نے 14 دن کی عدالتی حراست میں آج جیل بھیج دیا۔

دارالحکومت کے ڈی ڈی نگر پولیس اسٹیشن میں گذشتہ 5 ستمبر کو برہمن سماج کے دو افراد نے چیف منسٹر کے والد نندکمار بگھیل کے خلاف ان کے برہمنوں کے خلاف دیے بیان کےوائرل ہونے والے ویڈیوز کا حوالہ دیتے ہوئے 153 (اے) اور دفعہ 505 کے تحت مقدمہ درج کروایا تھا۔ ان پر کمیونٹیز کے درمیان جان بوجھ کر دشمنی اور نفرت پھیلانے کے جذبات پید اکرنے کا الزام ہے۔

ایف آئی آر درج ہونے کے بعد رائے پور پولیس اترپردیش کے شہر آگرہ میں گرفتار کرکے آج رائے پور پہنچی اور انھیں ایک مقامی عدالت میں پیش کیا۔ بگھیل نے ضمانت کیلئے درخواست نہیں دی جس کے بعد عدالت نے انھیں 14 دن کی عدالتی حراست میں (12 ستمبر تک) جیل بھیجنے کا حکم دیا۔

 اس حکم کے بعد انھیں رائے پور سنٹرل جیل بھیج دیا گیا۔ بگھیل تقریباً 86 برس کے ہیں۔ وہ ان دنوں اترپردیش کے دورے پر تھے اور انہوں نے لکھنؤ میں گذشتہ دنوں برہمنوں کے خلاف متنازعہ بیان دیا تھا۔

پولیس نے اس معاملے میں درخواست لے لی تھی لیکن ایف آئی آر درج نہیں کی تھی۔ جس پر اسے سوشل میڈیا میں وائرل کیا گیا تھا۔ اس کی اطلاع ہونے پر چیف منسٹر بگھیل نے عوامی طور پر بیان جاری کرکے کہا کہ ان کے والد نند کمار بگھیل کی جانب سے ایک مخصوص طبقہ کے خلاف کیے گئے تبصرےسے سماجی تانے بانے کو ٹھیس لگی ہے‘ان کے اس بیان سے مجھے بھی تکلیف ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے سوشل میڈیا اور دیگر وسائل سے یہ معلوم ہوا کہ یہ بات کہی جا رہی ہے کہ میرے والد ہونے کے ناطے ‘ ان کے خلاف کاروائی نہیں ہوگی۔ وہ واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ قانون سے اوپر کوئی نہیں ہے۔ ان کی حکومت ہر کسی کو ایک ہی نقطہ نظر سے دیکھتی ہے۔

(یواین آئی)

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.