گیان واپی مسجد کے اے ایس آئی سروے پر روک

1991میں ایک مقدمہ دائر کیا گیا تھا اور اسی مقام پر قدیم مندر کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا تھا جہاں فی الحال گیان واپی مسجد موجود ہے۔

پریاگ راج(اترپردیش): الٰہ آباد ہائی کورٹ نے آج وارانسی کی تحت کی عدالت کے حکم پر روک لگادی جس کے ذریعہ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا(اے ایس آئی) کو وارانسی میں کاشی وشواناتھ مندر سے متصل گیان واپی مسجد کے کمپاؤنڈ کا جامع فزیکل سروے کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔

نچلی عدالت نے 8 اپریل کو اے ایس آئی کو سروے کرنے کا حکم دیا تھا تاکہ مسجد کے احاطہ کے بارے میں تحقیقات کی جاسکیں۔

عدالت نے کہا تھا کہ ایک ہندو مندر کو جزوی طورپر منہدم کرنے کے بعد مغل شہنشاہ کی جانب سے مسجد کی تعمیرکے الزامات سے متعلق درخواستوں پر فیصلہ صادر کرنے یہ مشق درکار ہے۔

یہ حکم ایک درخواست پر صادر کیا گیا تھا جس کے ذریعہ گیان واپی مسجد کی اراضی ہندوؤں کو واپس کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

درخواست گزاروں نے سوئم بھو لارڈ وشویشور کی قدیم مورتی کی جانب سے درخواست داخل کرتے ہوئے کہا تھا کہ 1664 میں مغل شہنشاہ اورنگ زیب نے مندر کو تباہ کردیا تھا اور اس کی باقیات پر مسجد تعمیر کردی تھی۔

1991میں ایک مقدمہ دائر کیا گیا تھا اور اسی مقام پر قدیم مندر کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا تھا جہاں فی الحال گیان واپی مسجد موجود ہے۔

الٰہ آباد ہائی کورٹ نے 15 مارچ کو مختلف درخواستوں پر اپنا فیصلہ محفوظ کردیا تھا جن کے ذریعہ 1991 کے مقدمہ کو وارانسی کی ٹرائیل عدالت میں قابل قبول ہونے کو چیلنج کیا گیا تھا۔

ذریعہ
آئی اے این ایس

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.