انتخابات کے بعد جموں وکشمیر کا ریاستی درجہ بحال کردیا جائے گا: امیت شاہ

امیت شاہ نے کہا 'میں نے ریاستی درجے کی بحالی کا وعدہ ملک کے پارلیمنٹ میں کیا ہے۔ یہی روڈ میاپ ہے۔ میں تو کشمیری نوجوانوں سے دوستی کرنے آیا ہوں۔ اب آپ مودی جی اور بھارت سرکار کے ساتھ جڑ جائیں۔ اور کشمیر کو آگے لے جانے کی یاترا کا حصہ بنیں'۔

سری نگر: مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا کہ جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ اسمبلی انتخابات کے بعد بحال کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر بھارت کا دل ہے اور ہر ہندوستانی چاہتا ہے کہ ہمارے کشمیر میں خوشحالی، امن اور ترقی آئے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ہم پانچ اگست 2019 کے فیصلے لینے کے موقع پر کشمیر میں کرفیو نافذ نہ کرتے تو نہ جانے کتنے بوڑھے باپ اپنے جوان بیٹوں کے جنازے اٹھاتے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ جموں و کشمیر کے امن کو خراب کرنا چاہتے ہیں یا چاہیں گے ہم ان کے ساتھ سختی سے نمٹیں گے۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر کے مستقبل کو سنوارنے کی ذمہ داری آپ کی ہے۔ آپ سب ایک جٹ ہو جائیں۔ ہم جمہوریت کو نقصان نہیں پہنچائیں گے۔ انتخابات کرانے ہی کرانے ہیں۔ حد بندی کو کیوں روکنا ہے؟ اب کشمیر میں کچھ بھی رکنے والا نہیں ہے۔ یہاں حد بندی کے بعد انتخابات ہوں گے اور پھر ریاستی درجہ بحال ہو گا۔

شاہ نے کہا ‘میں نے ریاستی درجے کی بحالی کا وعدہ ملک کے پارلیمنٹ میں کیا ہے۔ یہی روڈ میاپ ہے۔ میں تو کشمیری نوجوانوں سے دوستی کرنے آیا ہوں۔ اب آپ مودی جی اور بھارت سرکار کے ساتھ جڑ جائیں۔ اور کشمیر کو آگے لے جانے کی یاترا کا حصہ بنیں’۔

انہوں نے کہا ‘آج صورتحال معمول پر ہے تو سب کچھ کھلا ہے۔ آج کوئی کرفیو نہیں ہے۔ میں کہتا ہوں کہ لمبے بھلے کے لئے آپ کو تھوڑی تکلیف اٹھانی پڑی ہے۔ کشمیر تو بھارت کا دل ہے۔ ہر بھارت واسی چاہتا ہے کہ میرے کشمیر کے اندر خوشحالی، امن اور ترقی آئے’۔

وزیر داخلہ نے کہاکہ ‘یہاں اب تک 40 ہزار لوگوں کی جانیں چلی گئی ہیں۔ اس میں دہشت گرد، سکیورٹی عہدیدار اور عام شہری یعنی سبھی شامل ہیں۔ دہشت گردی اور وکاس کا ایک ساتھ چلنا ممکن نہیں ہے۔ وکاس کی پہلی شرط امن ہے۔ دہشت گردی کو ختم کرنے کا کام یہاں کے یوتھ کلبز سے وابستہ 45 ہزار نوجوانوں کو کرنا ہے’۔ شاہ نے کہا کہ جموں و کشمیر میں ترقی کے ایک نئے دور کی شروعات ہوئی ہے۔

اُنہوں نے کہاکہ ‘پاس میں ہی پاکستان زیر قبضہ کشمیر ہے۔ ہم یہاں کی ترقی سے ابھی بھی مطمئن نہیں ہیں۔ لیکن آپ ایک بار اس اور پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر کے درمیان موازنہ کریں۔ آپ کو غریبی اور اندھیرے کے بغیر کچھ نظر نہیں آئے گا۔ وہاں آج بھی گھروں میں لکڑیاں اور ٹہنیاں جلا کر کھانا تیار کیا جاتا ہے۔ یہاں وکاس کے ایک نئے دور کی شروعات ہوئی ہے’۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ پورے ملک میں جموں و کشمیر جیسی انڈسٹریل پالیسی کہیں نہیں ہے۔

وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہاکہ  ‘کشمیر کو بھارت سرکار سے مدد آتی تھی اور آنی بھی چاہیے لیکن ایک دن آئے گا جب کشمیر بھارت سرکار کو کنٹریبیوٹ کرے گا۔ یعنی یہ ایک لینے والا نہیں بلکہ دینے والا خطہ بنے گا۔ ایسا جموں و کشمیر بنانا ہمارا ہدف ہے۔ اس میں بہت بڑا کردار یہاں کے نوجوانوں کا ہے’۔ شاہ نے کہا کہ رشوت خوری نے جموں و کشمیر کی جڑیں کھوکھلی کی تھیں۔

ذریعہ
یواین آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.