بھارت بند کا پنجاب، ہریانہ اور مغربی یوپی میں زبردست اثر

بند منانے کی اپیل سمیکت کسان مورچہ نے کی تھی جو 40 سے زائد کسان یونینوں کا وفاق ہے۔

نئی دہلی: مرکز کے 3 زرعی قوانین کے خلاف 10 گھنٹوں کے ملک گیر بند کے باعث پیر کے دن ہندوستان کے مختلف حصوں خاص طورپر شمالی ہند میں زندگی درہم برہم ہوگئی۔ کئی ٹرینیں منسوخ ہوئیں۔ شاہراہوں اور اہم سڑکوں پر ٹریفک جام ہوا۔ ہزاروں لوگ کئی گھنٹے پھنسے رہے۔

صبح 6تا سہ پہر 4 بجے بھارت بند نسبتاً پرامن رہا۔ کئی مقامات پر مظاہرے ہوئے۔ کہیں سے بھی کسی کے زخمی ہونے یا جھڑپوں کی خبریں نہیں آئیں۔

بند کا زیادہ تر اثر دہلی کے اطراف‘ پنجاب‘ ہریانہ اور مغربی اترپردیش میں دیکھا گیا۔ کیرالا‘ بہار‘ جھارکھنڈ‘ مغربی بنگال اور اوڈیشہ کے وسیع حصوں میں بھی بند منایا گیا۔ احتجاجیوں نے شاہراہیں جام کردیں۔

بند منانے کی اپیل سمیکت کسان مورچہ نے کی تھی جو 40 سے زائد کسان یونینوں کا وفاق ہے۔ آج سے ٹھیک ایک سال قبل صدرجمہوریہ نے متنازعہ قوانین کو اپنی منظوری دی تھی۔ دہلی کی سرحدوں پر کاشتکاروں کے احتجاج کو 10 ماہ مکمل ہوچکے ہیں۔

ہندوستان کے بڑے حصہ میں بند کا اثر نہیں ہوا تاہم شمالی ہند میں اس کی شدت دیکھی گئی۔ لگ بھگ 25 ٹرینیں منسوخ ہوئیں۔ دہلی این سی آر ریجن میں جس میں گڑگاؤں، غازی آباد اور نوئیڈا کے سٹیلائٹ ٹاؤن شامل ہیں، ہزاروں لوگ متاثر ہوئے کیونکہ یہ لوگ روزانہ سرحد پار کرتے رہتے ہیں۔

دہلی شہر بڑی حد تک غیرمتاثررہا لیکن اس کی سرحدوں پر افراتفری مچی۔ ٹریفک جام میں پھنسنے کی وجہ سے بعض مریض وقت پر دواخانہ نہ پہنچ سکے۔ کسانوں نے قومی دارالحکومت جانے والی سڑکوں پر ٹریفک روک دی۔ پنجاب میں کئی مقامات پر بند مکمل رہا۔

ہریانہ میں سرسہ‘ فتح آباد اور کروکشیتر ہائی ویز کو بلاک کردیا گیا۔ دونوں ریاستوں میں احتجاجی کسانوں نے ریل پٹریوں پر دھرنا دیا۔ کسان قائد یوگیندر یادو نے ایک ٹی وی چیانل سے کہا کہ بند غیرمعمولی طورپر کامیاب رہا۔

ذریعہ
آئی اے این ایس

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.