جدید تعلیم اخلاق و کردار کی تشکیل میں ناکام: چیف جسٹس آف انڈیا

انہوں نے کہاکہ حقیقی تعلیم وہ ہے جس میں کسی بھی فرد کی شخصیت کا مکمل فروغ ہو اور اس میں اخلاقی اقدارپروان چڑھانا بھی شامل ہے۔

حیدرآباد: چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس این وی رمنا نے کہا ہے کہ جدید تعلیم صرف مادی فوائد سے مربوط ہے تاہم اس کے ذریعہ طلبہ کے کردار اور اخلاقی اقدار نہیں بنائے جاسکتے۔

انہوں نے کہاکہ حقیقی تعلیم وہ ہے جس میں کسی بھی فرد کی شخصیت کا مکمل فروغ ہو اور اس میں اخلاقی اقدارپروان چڑھانا بھی شامل ہے۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ حقیقی تعلیم صبر،باہمی سمجھ بوجھ اور باہمی احترام بناتی ہے۔حقیقی انسانی اقدار بنانے کے لئے تعلیمی سفر کو جاری رکھنا چاہئے۔ چیف جسٹس رمنا، آندھراپردیش کے ضلع اننت پور کے سری ستیہ سائی انسٹی ٹیوٹ آف ہائیر ایجوکیشن کے 40ویں کانوکیشن سے خطاب کررہے تھے۔

انہوں نے اس یونیورسٹی کی جانب سے ہندوستانی ثقافت اور اقدار کو پروان چڑھانے کے لئے کی جارہی مساعی کی ستائش کی۔انہوں نے کہا کہ اکستاب، آج کے دور کی ضرورت ہے۔ہندوستانی ثقافت اور اقدار کے جوہر اس میں شامل ہیں۔

چیف جسٹس نے اپنے خطاب میں نشاندہی کی کہ کوویڈوبا کے دور نے عدم مساوات اور کمزوریوں کی گہری جڑوں کوبے نقاب کیا ہے۔ چیف جسٹس نے طلباء کو گولڈ میڈل اور ڈگریاں پیش کیں اور میڈل حاصل کرنے والے طلبہ کو مبارکباد دی۔

ذریعہ
یو این آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.