دفاعی ساز و سامان کی خریدی‘ ہندوستان پر تحدیدات کا امکان نہیں

تحدیداتی پالیسی کے عہدیدار رابطہ کی حیثیت سے نامزدکردہ جیمس اوبریان نے کل بتایا کہ ہندوستان کے خلاف تحدیدات پر غور میں اہم جغرافیائی اور حکمت عملی وجوہات ہیں جن میں بالخصوص چین کے ساتھ تعلقات شامل ہیں۔

نیویارک: تحدیدات سے نمٹنے کے معاملہ میں امریکی صدر جوبائیڈن کے نامزدکردہ سرکردہ عہدیدار نے اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ روس سے ایس۔400 ٹرائمف اینٹی میزائل ڈیفنس سسٹم کی خریداری کے لئے ہندوستان پر تحدیدات عائد نہیں کی جاسکتی ہیں۔

تحدیداتی پالیسی کے عہدیدار رابطہ کی حیثیت سے نامزدکردہ جیمس اوبریان نے کل بتایا کہ ہندوستان کے خلاف تحدیدات پر غور میں اہم جغرافیائی اور حکمت عملی وجوہات ہیں جن میں بالخصوص چین کے ساتھ تعلقات شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ وہ باور کرتے ہیں کہ توازن پر غور کرنا ہوگا۔ اپنے عہدہ کی توثیقی سماعت کے لئے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے روبرو پیش ہوتے ہوئے ریپبلیکن سینیٹر ٹاڈینگ نے اوبریان سے سی اے اے کے تحت تحدیداتی قانون کے ذریعہ ہندوستان کے خلاف تحدیدات عائد کرنے کے بارے میں سوال کیا تھا۔

جبکہ یہ تحدیدات ایسے ممالک کے خلاف ہوتی ہیں جو روسی دفاعی ساز و سامان خریدتے ہیں۔ ینگ نے بتایا کہ واشنگٹن میں ایس 400- کی خریداری پر ترکی کے دفاعی اداروں پر تحدیدات عائد کردیا گیا تھا۔

انہوں نے یہ سوال کیا تھا کہ آیا اس سے کوئی انتباہ یا اس بات کا سبق ملتا ہے کہ کس طرح سے ہندوستان کے معاملہ میں پیشرفت ہو۔ انہوں نے بتایا کہ وہ باور کرتے ہیں کہ یہ بہت ہی جداگانہ حالات ہیں اور بلاشبہ جداگانہ سیکوریٹی شراکت داری بھی ہے۔

اوبریان نے بتایا کہ جیسا کہ آپ کا کہنا ہے وہ باور کرتے ہیں کہ 2 قسم کے حالات کا تقابل ناٹو کے حلیف ترکی سے کرنا دشوار ہے۔ جبکہ ترکی دفاعی اصول سسٹم لیگسی کی خلاف ورزی کررہا ہے اور بعد ازاں ہندوستان کا نمبر آتا ہے۔

جو بڑھتی ہوئی اہمیت کا شراکت دار ہے۔ لیکن اس کے روس کے ساتھ موروثی تعلقات ہیں۔ انتظامیہ نے واضح کردیا کہ وہ روسی ساز و سامان کے حصول کے معاملہ میں پیشرفت کے خلاف ہندوستان کی حوصلہ شکنی کررہا ہے لیکن انہوں نے یہ بھی بتایا کہ یہاں اہم جغرافیائی و حکمت عملی وجوہات بھی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا لیکن یہ ایک ایسی بات ہے کہ میں آپ کے اور دیگر دلچسپی رکھنے والے ارکان کے ساتھ کام کرنے کا انتظار کررہاہوں ینگ نے بتایا کہ ہندوستان ایس 400- سسٹم درآمد کررہا ہے جس کے نتیجہ میں بعض میرے ساتھیوں نے سی اے ٹی ایس اے تحت تحدیدات کا مطالبہ کیا لیکن انہوں نے بتایا کہ وہ نئی دہلی کے خلاف کارروائی کے مخالف ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ چین کے خلاف مسابقت میں ہندوستان ہمارا اہم حلیف ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہم باور کرتے ہیں کہ ہمیں کسی ایسے اقدام سے بچنا چاہئے جو ہندوستان کو ہم سے اور کوارڈ سے دور کردے۔

انہوں نے بتایا کہ لہٰذا وہ ہندوستان کے خلاف تحدیدات کے معاملہ میں ٹی اے اے ٹی ایس اے کو معافی دینے کی پرزور تائید کرتے ہیں۔ امریکہ‘ جاپان اور آسٹریلیا کے ہمراہ ہندوستان 4 ممالک کے گروپ کا رکن ہے جو کواڈ کی حیثیت سے جانا جاتا ہے اور جو چین کے بڑھتے ہوئے ہند۔بحرالکاہل جارحانہ رویہ کے خلاف واشنگٹن کی حکمت عملی کا ایک اہم حصہ ہے۔

ینگ نے بتایا کہ کئی دہوں سے ہندوستانیوں میں وراثتی نظام موجود ہے اور وہ روسی سسٹم کے ساتھ باہمی طور پر کام کرسکتے ہیں۔ جبکہ ہندوستان چینی حملوں سے اپنی زمینی سرحد کا دفاع اور چین کی بڑھتی ہوئی مہم پسندی اور لاقانونیت کے خلاف دفاع کا خواہاں ہے۔

ایس 400- سسٹم اور بحریہ کا جنگی جہاز ہندوستان‘ روس سے حاصل کررہا ہے اور دونوں اس کے لئے اہم ہیں۔ سینیٹ میں اکثریتی ڈیموکریٹک پارٹی کے قائد چک شومر نے ماضی میں تحدیدات کی چھوٹ کی مخالفت کی تھی جبکہ سینیٹ کی خارجی تعلقاتی کمیٹی کے صدر نشین باب مینین ڈیس اس بارے میں دورخی موقف رکھتے ہیں۔

ینگ اور دیگر ساتھی ریپلیکن سینیٹر نے گذشتہ سال ہندوستان کی مدد کے لئے بل پیش کیا تھا تاکہ نئی دہلی ٹی اے اے ٹی ایس اے تحدیدات سے گریز کرسکیں۔ لیکن اس مسودے قانون کو جسے کروشل ایکٹ 2021 کا نام دیا گیا تھا۔ گذشتہ سینیٹ کے اجلاس میں اسے کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔

ذریعہ
آئی اے این ایس

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.