سپریم کورٹ نے لکھیم پور تشدد کو ازخود قابل سماعت بنادیا

یہ تشدد جو لکھیم پور کھیری میں کسانوں کے احتجاج کے دوران پھوٹ پڑا تھا۔ اس میں 9 افراد ہلاک ہوگئے تھے، جن میں 4 کسان بھی شامل ہیں۔

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے لکھیم پور کھیری میں تشدد کو ازخود قابل سماعت بنادیا ہے۔ جہاں پر 3 اکتوبر کو ایک کار میں کسانوں کو مبینہ طور پر کچل دیا تھا۔ جس کے باعث تشدد پھوٹ پڑا تھا۔

یہ تشدد جو لکھیم پور کھیری میں کسانوں کے احتجاج کے دوران پھوٹ پڑا تھا۔ اس میں 9 افراد ہلاک ہوگئے تھے، جن میں 4 کسان بھی شامل ہیں۔

چیف جسٹس این وی رمنا کی زیر قیادت اور جسٹس سوریہ کانت و جسٹس ہیما کوہلی پر بھی مشتمل بنچ جمعرات کو اس معاملہ کی سماعت کرے گا۔ اس معاملہ کو ”لکھیم پور کھیری (یوپی) میں تشدد سے جانی نقصانات“ کے زیر عنوان فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔

قبل ازیں عدالت عظمیٰ کے دو وکلاء نے چیف جسٹس کو مکتوب تحریر کیا تھا اور ان سے خواہش کی تھی کہ وہ عدالت عظمیٰ کی نگرانی میں اس معاملہ کی سی بی آئی تحقیقات کرائیں۔ ایڈوکٹس شیوکمار ترپاٹھی و سی ایس پانڈا کی جانب سے تحریر کردہ مکتوب میں کہا گیا تھا ”اترپردیش کے علاقہ لکھیم پور کھیری میں کسانوں کی ہلاکتوں کی سنگین نوعیت کو دیکھتے ہوئے عدالت ہذا پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ جیسا کہ صحافت میں زور دیا گیا ہے اس معاملہ میں مداخلت کرے“۔

وکلاء نے دعویٰ کیا تھا کہ آخر کار تشدد ملک کا سیاسی کلچر بن گیا ہے۔ وکلاء نے بتایا کہ تشدد سے تباہ و برباد ہوجانے والی ریاست اترپردیش میں جس کا ثبوت میڈیا رپورٹس سے ملتا ہے قانون کی حکمرانی کے تحفظ کی ضرورت ہے۔

مکتوب میں بتایا گیا تھا کہ لکھیم پور کھیری واقعہ اس بات کا متقاضی ہے کہ اترپردیش کی حکومت اور متعلقہ بیوروکریٹس کووزارت داخلہ کے انتظامی کنٹرول کے تحت ”قانون شکن پولیس مشنری کے ساتھ ہدایت دی جائے تاکہ تشدد کی روک تھام عمل میں لائی جاسکے“۔

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.