سپریم کورٹ کی وارننگ پر 11 خاتون آفیسرز کو فوج میں مستقل کمیشن

اس سے پہلے فوج نے 39خواتین کو عدالت کے حکم پر مستقل کمیشن کا موقع دیا تھا۔

نئی دہلی: سپریم کورٹ میں جمعہ کو فوج کی 11 مزید خاتون افسران کی تاریخی جیت ہوئی ہے۔

عدالت عظمیٰ کی جانب سے توہین کی کارروائی کی وارننگ کے بعد فوج ان خاتون آفیسرز کو مستقل کمیشن یعنی ریٹائرمنٹ کی عمر تک ملازمت کا موقع دینے کے لئے تیار ہوگئی۔

اس سے پہلے فوج نے 39خواتین کو عدالت کے حکم پر مستقل کمیشن کا موقع دیا تھا۔

جج ڈی وائی چندرچوڑ اور جج اے ایس بوپنا پر مشتمل بنچ کے سامنے توہین کی عرضی پر سماعت کے دوران ایڈیشنل سالیسٹر جنرل سنجے جین نے یقین دلایا کہ فوج 11 خواتین کو مستقل کمیشن کے لئے 10 دن کے اندر ضروری احکام جاری کرے گی۔

جسٹس چندر چوڑ نے سماعت کے دوران بنچ کے 22؍اکتوبر کے حکم پر عدم عمل آوری کے خلاف فوج کو توہین کا قصوروار قرار دینے کے اشارہ دیا اور کارروائی کا انتباہ دیا تھا۔

جسٹس چندر چوڑ نے بنچ کا آرڈر نہ ماننے پر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ یہ صحیح ہے کہ فوج اپنے شعبہ میں سب سے آگے ہے لیکن جہاں تک دستوری عدالت کا سوال ہے، یہ اپنے شعبہ میں سپریم ہے۔

ذریعہ
یو این آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.