طوفان جواد سے نمٹنے کی تیاریاں، این ڈی آر ایف ٹیمیں متحرک

ڈائرکٹر جنرل این ڈی آر ایف نے پریس کانفرنس میں جو نقشہ دکھایا اس کے مطابق مغربی بنگال میں 19‘ اوڈیشہ میں 17‘ آندھراپردیش میں 19‘ ٹاملناڈو میں 7 اور جزائر انڈمان و نکوبار میں 2ٹیمیں تعینات کردی گئی ہیں۔

نئی دہلی: خلیج بنگال میں ہوا کے دباؤ نے گردابی طوفان ”جواد“ کی شکل اختیار کرلی ہے۔ ہندوستانی محکمہ موسمیات نے جمعہ کے دن یہ بات بتائی۔ یہ طوفان امکان ہے کہ ہفتہ کی صبح تک وسط مغربی خلیج بنگال‘ ساحل شمالی آندھراپردیش اور اوڈیشہ پہنچ جائے گا۔ محکمہ موسمیات کے ڈائرکٹر جنرل مرتنجے مہاپاترا نے یہ بات بتائی۔ بعد میں یہ طوفان شمال مشرقی سمت بڑھ سکتا ہے۔ 5  دسمبر کی دوپہر وہ ساحل پوری پہنچ سکتا ہے۔ طوفان جواد کا نام سعودی عرب کا تجویز کردہ ہے۔ شمالی ساحلی آندھراپردیش اور جنوبی ساحلی اوڈیشہ میں شدید بارش ہوسکتی ہے۔

سمندر‘ جہاز رانی اور مچھیروں کے لئے محفوظ نہیں رہے گا۔ 65 کیلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل سکتی ہیں۔ اسی دوران نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس(این ڈی آر ایف) نے جملہ 64  ٹیمیں طوفان کی صورتِ حال سے نمٹنے تیار رکھی ہیں۔ ڈائرکٹر جنرل این ڈی آر ایف نے پریس کانفرنس میں جو نقشہ دکھایا اس کے مطابق مغربی بنگال میں 19‘ اوڈیشہ میں 17‘ آندھراپردیش میں 19‘ ٹاملناڈو میں 7  اور جزائر انڈمان و نکوبار میں 2ٹیمیں تعینات کردی گئی ہیں۔ یہ ٹیمیں مختلف ریاستی حکومتوں کے کہنے پر دستیاب کرائی گئی ہیں۔

 این ڈی آر ایف کی ایک ٹیم میں لگ بھگ 30 آدمی ہوتے ہیں جو کھمبے کاٹنے کی مشینوں‘ درخت کاٹنے کے آروں اور ہوا بھر کر چلائی جانے والی کشتیوں سے لیس ہوتی ہے۔ ڈائرکٹر جنرل نے کہا کہ جواد‘ شدید طوفان کے زمرہ میں ہے۔ 100-110 کیلو میٹر کی رفتار سے ہوائیں چل سکتی ہیں۔ کولکتہ سے یواین آئی کے بموجب انڈین ریلوے نے مشرقی اور جنوب مشرقی ریلوے کی متعدد ٹرینیں منسوخ کر دی ہیں۔

 کلکتہ کے شالیمار یارڈ میں کھڑی ٹرین کے ڈبوں کے پہیوں کو زنجیر سے باندھا جارہا ہے۔متعدد ایکسپریس ٹرینیں بھی منسوخ کردی گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق ایسٹرن ریلوے کی جانب سے کل 59ٹرینیں منسوخ کی گئی ہیں۔3اور 4 دسمبر کو، طوفان جواد اڑیسہ کے ساحل سے ٹکرانے کا امکان ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق طوفان جواد 3 سے 4 دسمبر کے درمیان اڑیسہ کے ساحل سے ٹکرانے کا امکان ہے۔ اسی وقت، جنوب مشرقی ریلوے کے ذرائع کے مطابق کئی ٹرینوں کو منسوخ کردیا گیا۔

ذریعہ
پی ٹی آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.