علیگڑھ میں ہونے والی دھرم سنسد پر پابندی کیلئے مولانا ارشد مدنی کامطالبہ

ریلیز کے مطابق ہریدوار دھرم سنسد میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقریر کے معاملے میں گذشتہ روز سپریم کورٹ آف انڈیا نے اترا کھنڈ حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اتر ا کھنڈ حکومت کو دس دنوں کے اندر جواب داخل کرنے کا حکم دیا تھا۔

نئی دہلی: علی گڑھ اور دیگر مقامات پر ہونے والے دھرم سنسد کے خلاف جمعیۃ علمائے ہند نے مولانا سید ارشد مدنی کی ہدایت پر الیکشن کمیشن آف انڈیا اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو خط لکھ کر اس پر روک لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ اطلاع جمعیۃکی جاری کردہ ایک ریلیز میں دی گئی ہے۔

ریلیز کے مطابق ہریدوار دھرم سنسد میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقریر کے معاملے میں گذشتہ روز سپریم کورٹ آف انڈیا نے اترا کھنڈ حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اتر ا کھنڈ حکومت کو دس دنوں کے اندر جواب داخل کرنے کا حکم دیا تھا اور چیف جسٹس آف انڈیا این وی رمنا کی سربراہی والی تین رکنی بنچ جس میں جسٹس سریکانت ویاس اور جسٹس ہیما کوہلی شامل ہیں‘ نے جہاں ایک جانب نوٹس جاری کی تھی وہیں علیگڑھ میں 22اور 23جنوری کو ہونے والے دھرم سنسد پروگرام پر فوری پابندی لگانے سے انکار کرتے ہوئے فریقین کو حکم دیا تھا کہ وہ اس ضمن میں انتظامیہ سے رجوع کریں اور ان سے درخواست کریں کہ وہ متوقع دھرم سنسد کے انعقاد کے تعلق سے کارروائی کریں۔

سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق آج ایڈوکیٹ صارم نوید نے جمعیۃ علماء ہند اور جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی کی جانب سے چیف الیکشن کمیشن سبھاش چندرا، الیکشن کمشنر راجیو کمار، الیکشن کمشنرانوپ چندرا پانڈے، ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ علیگڑھ سلوا کمار اورسینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولس علیگڑھ کلا ندھنی نیتھانی کو بذریعہ ای میل ایک خط بھیجا ہے جس میں تحریر کیا گیا ہے کہ جمعیۃ علماء ہند نے اترا کھنڈ دھرم سنسد میں کی گئی نفرت آمیز تقاریر کرنے والوں کے خلاف سپریم کورٹ آف انڈیا میں پٹیشن داخل کی ہے اور گذشتہ کل دوران سماعت سپریم کورٹ آف انڈیا نے فریقین کو حکم دیا تھا کہ وہ مجوزہ دھرم سنسد کے انعقاد پر اگر آپ کو اعتراض ہو تو اس پروگرام کو روکنے کے لیے مقامی انتظامیہ سے رجوع ہوں۔

چیف جسٹس آف انڈیا کی ہدایت کے مطابق جمعیۃ علماء نے انتظامیہ سے درخواست کی ہے علیگڑھ میں 22اور 23 جنوری کو ہونے والی دھرم سنسد پر پابندی لگائی جائے تاکہ اس کے انعقاد سے ہونے والی بے چینی پر روک لگائی جاسکے اور ملک میں امن و امان قائم رہے۔ خط میں تحریر کیا گیا ہے کہ یوپی میں اسمبلی الیکشن ہونے جارہے ہیں ایسے میں الیکشن کمیشن کو ایسے پروگراموں پر پابندی لگانا چاہئے جس سے الیکشن پر اثر پڑسکتا ہے اور ووٹوں کی تقسیم مذہب اور ذات پات کی بنیاد پر ہوسکتی ہے۔

الیکشن کمیشن کی یہ بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ پر امن اور شفا ف الیکشن کرائے لیکن اگر دھرم سنسد جیسے نفرت پھیلانے والے پروگرام ہوتے رہے تو پر امن اور شفاف انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں ہے۔ ایڈوکیٹ صارم نوید نے مزید تحریر کیا ہے کہ اترا کھنڈ دھرم سنسد کے اختتام پر یتی نرسنگھا نند سرسوتی، سوامی پربھودنند گری، سادھوی اننا پرنا اور دیگر مقررین نے اعلان کیا تھا کہ اگلی دھرم سنسد کا انعقاد علیگڑھ میں کیا جائے گا لہٰذا اتراکھنڈدھرم سنسد میں جس طرح کی بیان بازی کی گئی تھی اور مسلمانوں کو قتل کرنے کے لئے کھلے عام بیانات دیئے گئے تھے‘ ایسا دوبارہ نہ ہو اس کے لیے علیگڑھ میں ہونے والی دھرم سنسد کے انعقاد پر رو ک لگائی جائے۔

ذریعہ
یو این آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.