لکھیم پور واقعہ، ایک رکنی تحقیقاتی کمیشن کی تشکیل

کمیشن کو تحقیقات مکمل کرنے 2ماہ کا وقت دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ لکھیم پور کھیری میں اتوار کے روز پرتشدد واقعات میں 8 افراد ہلاک ہوگئے تھے جن میں 4کسان بھی شامل تھے جنہیں بی جے پی ورکرس کی گاڑیوں سے کچل دیا گیا تھا۔

لکھنو: حکومت اترپردیش نے لکھیم پور کھیری واقعہ کی تحقیقات کے لئے ایک رکنی عدالتی کمیشن قائم کیا ہے۔ الٰہ آباد ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج پردیپ کمار سریواستو کو ضلع لکھیم پور کھیری کی تکونیہ۔ بنبیر پور سڑک پر اتوار کے روز رونما ہوئے تشدد کی تحقیقات کی ذمہ داری تفویض کی گئی ہے۔

بہرحال کانگریس قائد پرینکا گاندھی وڈرا نے کہا ہے کہ اس کیس کی کسی ریٹائرڈ جج کے ذریعہ نہیں بلکہ سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کے برسرخدمت جج کے ذریعہ تحقیقات کرائی جانی چاہئیں۔ حکومت ِ اترپردیش نے کمیشن کی تشکیل کے لئے پہلے ہی ایک اعلامیہ جاری کردیا تھا جس کا ہیڈکوارٹر لکھیم پور کھیری میں ہوگا۔

کمیشن کو تحقیقات مکمل کرنے 2ماہ کا وقت دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ لکھیم پور کھیری میں اتوار کے روز پرتشدد واقعات میں 8 افراد ہلاک ہوگئے تھے جن میں 4کسان بھی شامل تھے جنہیں بی جے پی ورکرس کی گاڑیوں سے کچل دیا گیا تھا۔

بی جے پی کارکن‘ یوپی کے ڈپٹی چیف منسٹر کیشوپرساد موریہ کے خیرمقدم کے لئے وہاں آئے تھے۔ 3 اکتوبر کے واقعہ کے بعد کسان قائد راکیش ٹکیت نے احتجاجی کسانوں کی جانب سے ریاستی حکومت کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا جس کا کلیدی عنصر عدالتی کمیشن قائم کرنا تھا۔

جسٹس سریواستو کو 22 نومبر 2018 کو الہٰ آباد ہائی کورٹ کا جج مقرر کیا گیا تھا اور وہ گزشتہ 29 ستمبر کو واں سے ریٹائر ہوئے تھے۔

ذریعہ
پی ٹی آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.