مخلوعہ جائیدادیں صرف ہندوؤں کیلئے

13اکتوبر کو مختلف اخبارات میں شائع اشتہار میں کہا گیا کہ کولاتور کے ارولمیگو کپلیشورر آرٹس اینڈ سائنس کالج میں مختلف تدریسی اور غیر تدریسی جائیدادیں مخلوعہ ہیں اور یہ صرف ہندوؤں کیلئے ہیں۔

چینائی: ٹاملناڈو میں ہندو انڈومنٹ (ہندو اوقاف) کے کالجس میں مختلف جائیدادوں کیلئے صرف ہندوؤں سے درخواستیں طلب کرنے کے اشتہار پر تنازعہ پیدا ہوگیا ہے۔ کئی افراد اور تنظیموں نے اس کی مخالفت کی ہے۔

13اکتوبر کو مختلف اخبارات میں شائع اشتہار میں کہا گیا کہ کولاتور کے ارولمیگو کپلیشورر آرٹس اینڈ سائنس کالج میں مختلف تدریسی اور غیر تدریسی جائیدادیں مخلوعہ ہیں اور یہ صرف ہندوؤں کیلئے ہیں۔

محکمہ ہندو اوقاف 4نئے آرٹس اینڈ سائنس کالجس سال 2021-22سے کھول رہا ہے ان میں کولاتور کا کپلیشورر کالج بھی شامل ہے۔ اشتہار میں بی کام‘ بی بی اے‘ بی ایس سی کمپیوٹرس سائنس‘ بی سی اے‘ ٹامل‘ انگلش‘ ریاضی پڑھانے کیلئے اسسٹنٹ پروفیسرس کی جائیدادوں کے علاوہ فزیکل ایجوکیشن ڈائرکٹر اور لائبریرین کے عہدہ کیلئے بھی درخواستیں طلب کی گئیں۔

نان ٹیچنگ اسٹاف آفس اسسٹنٹ‘ جونیر اسسٹنٹ‘ واچ مین اور سوئپر کی مخلوعہ جائیدادوں کیلئے بھی واک ان انٹرویو کیلئے امیدواروں سے درخواستیں داخل کرنے کو کہا گیا۔

جائیدادیں صرف ہندوؤں کیلئے مختص کرنے پر ہنگامہ برپا ہوگیا۔ سابق صدر اسو سی ایشن آف یونیورسٹی ٹیچرس کے پانڈین نے آئی اے این ایس سے کہا کہ محکمہ ہندو اوقاف کے تحت 36اسکول 5آرٹس اینڈ سائنس کالجس اور ایک پاٹی ٹکنک کالج ہے۔

پہلی مرتبہ ایسا اشتہار جاری ہوا کہ جائیدادیں صرف ہندوؤں کیلئے محفوظ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری محکمہ مذہب کی بنیاد پر بھید بھاؤ نہیں کرسکتا۔ پانڈین نے مسلم سرویس سوسائٹی وقف بورڈ کالج مدورائی کی مثال دی جہاں کئی فیکلٹی ممبرس غیر مسلم ہیں۔ حکومت‘ دستور میں جو لکھا ہے اسی کی بنیاد پر کالجس چلا سکتی ہے۔

ذریعہ
آئی اے این ایس

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.