مظفرنگر فساد کیس، مزید 20 ملزمین بری

خیال رہے کہ موضع کٹبی میں فرقہ وارانہ جھڑپوں میں 60 سے زائدافراد ہلاک اور40 ہزار افراد بے گھر ہوگئے تھے۔ 2013میں اس وقت کے وزیراعظم منموہن سنگھ نے فساد بھڑکنے کا بعد صدر کانگریس سونیا گاندھی کے ہمراہ مظفر نگرکادورہ کیا تھا اورمتاثرین کودلاسہ دیتے ہوئے سخت کاروائی کرنے کا وعدہ کیاتھا۔

مظفرنگر: ایک مقامی عدالت نے آج 2013 مظفرنگرفساد کیس کے سلسلہ میں شواہد کی کمی کی وجہ سے 20 افراد کوبری کردیاہے۔

اڈیشنل ڈسٹرکٹ سیشن جج بابورام نے یہ کہتے ہوئے ملزمین کو بری کردیاکہ استغاثہ ان کے خلاف شواہد فراہم کرنے میں ناکام ہوگیاہے۔

استغاثہ کے مطابق فساد کے کیسس کی تحقیق کرنے والی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) نے 8 ستمبر2013 کو ضلع مظفر نگرکے کٹبی موضع میں فسادات کے دوران مبینہ طورپر متعدد مکانات کو نذر آتش کرنے اورلوٹ مار کے لئے ضابطہ تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی مختلف دفعات کے تحت 21 افراد کے خلاف ایک چارج شیٹ داخل کی تھی۔

ایک ملزم کی کیس کے زیرالتوا رہنے کے دوران موت ہوگئی تاحال جملہ فساد سے متعلق 98 کیسس کا فیصلہ کیاگیاہے جن میں ملزم قرار دیئے گئے 1137افراد کوشواہد کی کمی کی وجہ سے بری کردیاگیاہے۔

پولیس نے فسادات کے سلسلہ میں 510 مقدمات درج کئے گئے تھے اور 1480 افراد کوگرفتارکیاگیاتھا۔ تحقیقات کے بعد ایس آئی ٹی نے175 کیسس میں فرد جرم داخل کیا۔

خیال رہے کہ موضع کٹبی میں فرقہ وارانہ جھڑپوں میں 60 سے زائدافراد ہلاک اور40 ہزار افراد بے گھر ہوگئے تھے۔

2013میں اس وقت کے وزیراعظم منموہن سنگھ نے  فساد بھڑکنے کا بعد صدر کانگریس سونیا گاندھی کے ہمراہ مظفر نگرکادورہ کیا تھا اورمتاثرین کودلاسہ دیتے ہوئے سخت کاروائی کرنے کا وعدہ کیاتھا۔

جس کے بعد بڑی تعدادمیں مقدمات بھی درج ہوئے تاہم2014کے بعد کے حالات میں ملزمین کوکیفر کردار تک پہونچانے میں کوئی سرگرمی دکھائی نہیں دی اور”شواہد کی کمی“ کی وجہ سے بیشتر ملزمین بری کردیئے گئے۔

ذریعہ
پی ٹی آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.