پی ایم گتی شکتی نیشنل ماسٹر پلان کا آغاز

پی ایم گتی شکتی کا نشانہ حمل و نقل کے مصارف میں کمی، مال و اسباب سے نمٹنے کی صلاحیت میں اضافہ اور گاڑیوں کے چکر لگانے کے وقت میں کمی ہے۔

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے آج ہمہ مقصدی رابطہ جس کا مقصد حمل و نقل کے مصارف میں کمی کرنا اور معیشت کو تیز فروغ دینا ہے کے لیے 100 لاکھ کروڑ روپیہ مالیتی قومی ماسٹر پلان کا آغاز کیا۔

پی ایم گتی شکتی کا نشانہ حمل و نقل کے مصارف میں کمی، مال و اسباب سے نمٹنے کی صلاحیت میں اضافہ اور گاڑیوں کے چکر لگانے کے وقت میں کمی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کا مقصد تمام متعلقہ محکموں کو مربوط کرکے پراجکٹ کو زیادہ اختیار اور رفتار فراہم کرنا ہے۔ منصوبے کی افتتاحی تقریب کو مخاطب کرتے ہوئے مودی نے ان خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ مختلف وزارتوں اور ریاستی حکومتوں کی انفرااسٹرکچر اسکیم تیار کرکے ایک مشترکہ ویژن پر روبعمل لایا جائے گا۔

مودی نے کہا کہ محاصل ادا کرنے والوں کے پیسہ کی ماضی میں ترقیاتی کاموں کی سست رفتار انجام دہی سے ناقدری کی جاتی رہی جس میں محکمہ جات اپنے طور پر کام کرتے تھے اور پراجکٹس پر عمل آوری میں ایک دوسرے کا تعاون نہیں کرتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ معیاری انفرااسٹرکچر کے بغیر ترقی ممکن نہیں اور اب حکومت فیصلہ کی ہے کہ ترقی مجموعی طور پر کی جائے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ سڑک، ریلوے، ہوا بازی سے زراعت تک کے ترقیاتی پراجکٹس کے تعاون میں گتی شکتی منصوبے کے تحت مختلف محکمہ جات شامل ہوں گے۔

یہ بتاتے ہوئے کہ ہندوستان میں حمل و نقل کے بھاری مصارف مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کا 13 فیصد ہیں برآمدات میں مسابقت پر اثرانداز ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ایم گتی شکتی پراجکٹ کا مقصد حمل و نقل کے مصارف میں کمی کرنا اور حمل و نقل کے وسائل کا تیز رفتار استعمال ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس سے ہندوستان کو سرمایہ کاری کی منزل کی حیثیت سے تیزرفتار فروغ حاصل ہوگا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ان کی حکومت میں ترقی کی رفتار اور مقدارِ آزادی کے بعد گزشتہ 70 سالوں میں کبھی نہیں دیکھی گئی۔

مثالیں دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پہلی بین ریاستی قدرتی گیس پائپ لائن 1987ء میں شروع کی گئی جب سے 2014ء تک 15000 کیلو میٹر طویل قدرتی گیس پائپ لائن بچھائی گئی۔ اب 16000 کیلو میٹر سے زیادہ طویل نئی گیس پائپ لائنس زیرتعمیر ہیں، جو کام 27 سال میں کیا گیا اتنا ہی کام اب وہ نصف سے کم عرصہ میں انجام دے رہے ہیں۔

ذریعہ
یو این آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.