چیف منسٹر پنجاب کو لکھیم پور کے دورہ کی اجازت دینے سے انکار

اسی دوران چنی نے وزیراعظم نریندرمودی پر زوردیاکہ وہ حکومت اترپردیش کوہدایت دیں کہ وہ لکھیم پورکھیری واقعہ کے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ انصاف کویقینی بنائیں۔

چندی گڑھ: چیف منسٹر پنجاب چرنجیت سنگھ چنی کولکھیم پورکھیری جانے کی اجازت دینے سے انکار کردیاگیاجبکہ ان کے نائب سکھجیندرسنگھ رندھاوا اوربعض کانگریس ارکان اسمبلی کو ہریانہ۔ یوپی سرحد پر انہیں روک دیئے جانے کے بعد زیرحراست لے لیاگیا۔

اسی دوران چنی نے وزیراعظم نریندرمودی پر زوردیاکہ وہ حکومت اترپردیش کوہدایت دیں کہ وہ لکھیم پورکھیری واقعہ کے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ انصاف کویقینی بنائیں اورساتھ ہی ساتھ اس بات کااعادہ کیاکہ مرکزکے تینوں پیچیدہ زرعی قوانین سے دستبرداری اختیارکرلی جائے۔

پنجاب اورہریانہ کے کسانوں نے اس واقعہ کے خلاف کئی مقامات پر مظاہرے کئے اوراحتجاجی جلوس نکالے ان کی جانب سے زوردیاگیاکہ مرکزی وزیر اجئے مشراکے بیٹے کوگرفتارکرلیاجائے۔

احتجاجیوں نے مرکز اوراترپردیش میں برسراقتداربی جے پی حکومتوں کے پتلے بھی نذرآتش کئے۔ صدر پنجاب کانگریس نوجوت سنگھ سدھو نے کئی پارٹی ارکان اسمبلی کے ساتھ پنجاب راج بھون، چندی گڑھ کے باہر احتجاج کیا اورلکھیم پورکھیری واقعہ کے خلاف آواز بلند کی۔

عام آدمی پارٹی اورشرومنی اکالی دل نے بھی کہاکہ وہ اترپردیش کو وفودروانہ کررہی ہیں۔ چیف منسٹر پنجاب کویہ بہانہ کرتے ہوئے اجازت دینے سے انکارکردیاگیاکہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ144 نافذ ہے جس کے تحت چاریااس سے زائدافراد کے اجتماع پرپابندی ہے۔

اسی دوران ڈپٹی چیف منسٹررندھاوااوربعض کانگریس ارکان اسمبلی کواترپردیش۔ ہریانہ سرحد پر روک دیاگیا۔ رندھاواکے قافلہ کو روک دیئے جانے کے بعد انہوں نے اور پارٹی ارکان اسمبلی نے سڑک پراحتجاج کیا ان کوسڑک سے ہٹانے کے بعد اترپردیش پولیس نے انہیں زیرحراست لے لیا۔

حکومت پنجاب کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایاگیاکہ ان کو سہارنپورکے علاقہ شاہیجاہ پورمیں واقع پولیس چوکی لے جایاگیا۔ رندھاوا اورارکان اسمبلی کو زیرحراست لے لئے جانے پرشدید ردعمل کااظہارکیا۔

ذریعہ
پی ٹی آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.