چین کی توسیع پسندانہ پالیسی پر راجناتھ سنگھ کی تنقید

راجناتھ سنگھ نے کہا کہ تشویش کی بات ہے کہ کنونشن برائے بحری قانون کو من مانی تشریح کے ذریعہ بعض ممالک کمزورکررہے ہیں۔ وہ ہندوستانی بحریہ کے تباہ کن جہاز وشاکھاپٹنم کو بحری بیڑہ میں شامل کرنے کے بعد خطاب کررہے تھے۔

ممبئی: چین پر طنز کرتے ہوئے وزیردفاع راج ناتھ سنگھ نے اتوار کے دن کہا کہ ”بعض غیرذمہ دار ممالک“ اپنے حقیرمفادات اور بالادستی کی سوچ کے تحت اقوام متحدہ کے کنونشن برائے بحری قانون کی نامناسب تشریح کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تشویش کی بات ہے کہ اس قانون کو من مانی تشریح کے ذریعہ بعض ممالک کمزورکررہے ہیں۔ وہ ہندوستانی بحریہ کے تباہ کن جہاز وشاکھاپٹنم کو بحری بیڑہ میں شامل کرنے کے بعد خطاب کررہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ایک ذمہ دار بحری ملک ہونے کے ناطے ہندوستان اتفاق آراء پر مشتمل اصولوں کی تائید کرتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ ہند۔بحرالکاہل میں سب کچھ اصولوں کے مطابق ہو۔بحری جہازوں کی آمدورفت آزادانہ ہو‘ آزادانہ تجارت ہواور عالمی اقدار ملحوظ رہیں۔ انہوں نے عالمیانہ کے موجودہ دور میں بحری راستوں کی سلامتی کی اہمیت پر زوردیا۔ انہوں نے چین کا نام لئے بغیر یہ بات کہی۔ چین‘ جنوبی بحرچین میں جزیروں کو فوجی رنگ دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطہ کا اہم ملک ہونے کے ناطہ ہندوستانی بحریہ کا رول خطہ کی سلامتی میں مزید فیصلہ کن نوعیت اختیارکرگیا ہے۔

ہندوستان کے مفادات بحرہند سے راست جڑے ہیں اور یہ خطہ دنیا کی معیشت کیلئے اہم ہے۔ آئی اے این ایس کے بموجب وزیردفاع راج ناتھ سنگھ نے ہند۔بحرالکاہل خطہ میں چین کی توسیع پسندانہ پالیسی پر تنقید کی۔ حالانکہ انہوں نے چین کا نام نہیں لیا۔ انہوں نے کہا کہ بعض غیر ذمہ دار ممالک اپنے حقیر مفادات کیلئے بین الاقوامی قوانین کی نامناسب تشریح کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ من مانی تشریح سے اصولوں پر مبنی بحری نظام کی راہ میں رکاوٹیں پیدا ہوتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ممالک کی بحری حدود کیلئے اقوام متحدہ کا قانون 1982ء موجود ہے۔ وزیردفاع نے زوردے کرکہا کہ ہند۔بحرالکاہل خطہ کو کھلا اور محفوظ رکھنا ہندوستانی بحریہ کا بنیادی مقصد ہے۔ انہوں نے زوردے کرکہا کہ ہندوستان کے مفادات بحرہند سے جڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی، ہتھیاروں اور منشیات کی غیرقانونی اسمگلنگ‘ انسانی ٹریفکنگ کے علاوہ غیرقانونی مچھلی پکڑنے کے چیلنجس کا سامنا ہے جس سے ماحولیات کو نقصان پہنچتا ہے۔ اس لحاظ سے پورے ہند۔بحرالکاہل خطہ میں ہندوستانی بحریہ کا رول بے حد اہم ہوجاتا ہے۔

راج ناتھ سنگھ نے انڈین نیوی سرویس وشاکھاپٹنم جہاز کو ہندوستان کی بڑھتی بحری طاقت کی علامت قراردیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ جہاز ہندوستان کے قدیم دور اورعہدوسطیٰ میں اس کی بحری صلاحیتوں کی یاددہانی کراتا ہے۔ ہندوستانی بحریہ کا ماضی روشن رہا ہے۔ ہمارے ملک میں عہد قدیم اور عہدوسطیٰ میں بحری جہاز بنائے جاتے رہے ہیں۔ انہوں نے سرکاری اور خانگی شعبہ سے خواہش کی کہ وہ ہندوستان کو دیسی شپ بلڈنگ ہب بنانے میں مل جل کر کام کریں۔

ذریعہ
پی ٹی آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.