کسانوں کا 27ستمبر کو بھارت بند

یہ بند مرکز کے 3 زرعی قوانین کے خلاف بطور احتجاج منایا جارہا ہے۔

نئی دہلی: کانگریس نے اتوار کے دن اپنے تمام ورکرس‘ ریاستی صدور اور محاذی تنظیموں کے سربراہوں سے کہا کہ وہ 27ستمبر کو کسان یونینوں کے بھارت بند میں حصہ لیں۔

یہ بند مرکز کے 3 زرعی قوانین کے خلاف بطور احتجاج منایا جارہا ہے۔ کسانوں کا احتجاج چلانے والی 40 سے زائد کاشت کار یونینوں کے وفاق سمیوکت کسان مورچہ نے پہلے ہی عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ بند میں حصہ لیں۔

کانگریس جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے کہا کہ کانگریس اور اس کے ورکرس‘ کسان یونینوں کے پیر کے دن منائے جانے والے پُر امن بند کی بھرپور تائید کریں گے۔

انہوں نے ٹویٹ کیا کہ ہم کسانوں کے جائز حق کے قائل ہیں۔ ہم سیاہ زرعی قوانین کے خلاف ان کی لڑائی میں ان کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔

وینوگوپال نے کہا کہ تمام پردیش کانگریس صدور‘ محاذی تنظیموں کے سربراہوں سے کہا گیا ہے کہ وہ کسانوں سے پُر امن بھارت بند میں حصہ لیں۔ حکومت اور کسان یونینوں میں تاحال 11ادوار کی بات چیت ہوچکی ہے۔

بات چیت کا آخری دور 22جنوری کو ہوا تھا۔ تعطل دور کرنے اور کسانوں کا احتجاج ختم کرنے کیلئے یہ بات چیت ہوئی تھی۔ پارلیمنٹ میں گذشتہ برس ستمبر میں منظورہ 3قوانین سے کسان ناخوش ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان قوانین سے منڈیاں ختم ہوجائیں گی۔

 ایم ایس پی خریداری سسٹم برخواست ہوجائے گا اور ملک کے کسان بڑے کارپوریٹس کے رحم وکرم پر ہوں گے۔ حکومت کاشت کاروں کے ان اندیشوں کو بے بنیاد قرار دے کر مسترد کرچکی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ان قوانین سے کسانوں کی آمدنی بڑھانے میں مدد ملے گی۔

ذریعہ
پی ٹی آئی

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.