یکساں سیول کوڈ بھارت کیلئے نہ ہی موزوں اور نہ ہی کارآمد: پرسنل لاء بورڈ

مسلم پرسنل لاء بورڈ کے72 ویں اجلاس عام کے دوسرے اور اختتامی اجلاس میں منظورہ قرارداد میں کہا گیا کہ بھارت ایک ہمہ مذہبی ملک ہے اور ہر شہری کو ضمانت دی گئی ہے کہ وہ اپنے عقیدہ اور مذہبی اعتقاد کا برملا اعلان کرنے اور اس پرعمل پیرا ہواور اس کی تبلیغ کرے۔

کانپور: آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے اتوار کو کہا کہ بھارت جیسے وسیع تر ہمہ مذہبی ملک کے لئے یکساں سیول کوڈ نہ ہی موزوں ہے اور نہ ہی کارآمد ہے۔ بورڈ نے کہا کہ یونیفارم سیول کوڈ، پسند کے مذہب پر عمل پیرا ہونے دستور میں دئیے گئے بنیادی حق کے مغائر ہے۔

مسلم پرسنل لاء بورڈ کے72 ویں اجلاس عام کے دوسرے اور اختتامی اجلاس میں منظورہ قرارداد میں کہا گیا کہ بھارت ایک ہمہ مذہبی ملک ہے اور ہر شہری کو ضمانت دی گئی ہے کہ وہ اپنے عقیدہ اور مذہبی اعتقاد کا برملا اعلان کرنے اور اس پرعمل پیرا ہواور اس کی تبلیغ کرے۔بھارت جیسے عظیم ہمہ مذہبی ملک کے لئے یونیفارم سیول کوڈ نہ ہی موزوں ہے اور نہ ہی کارآمدہے۔

اس سمت کسی قسم کی لوشش دستور میں فراہم کردہ بنیادی حقوق کے متضاد ہے۔بورڈ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو چاہئے کہ وہ راست یا بالواسطہ، کامل یا جزوی طور پر یونیفارم سیول کوڈ نافذ کرنے کی کوشش نہ کرے بصورت دیگر یہ کسی طور قابل قبول نہیں ہوگا۔

بورڈ نے چند موذی افراد کی جانب سے پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی جانب بھی حکومت کی توجہ مبذول کروائی اور افسوس کا اظہاار کیاکہ حکومت اس سمت کسی قسم کا اقدام کرنے میں ناکام ہوگئی جوایک مزاحمت کے طور پر امکانی حرکت ہوسکتی ہے۔ فرقہ وارانہ قوتوں کا یہ رویہ ناقابل قبول ہے۔ یہ ملک میں نفرت کو بڑھاوا دے گا اور قومیت اور حب الوطنی کے مفادات کے مغائر ہوگا۔

بورڈ نے مزید کہا کہ شان رسالت مآً ب صلی اللہ علیہ وسلم میں کسی قسم کی گستاخی سے مسلم دنیا کے جذبات مجروح ہوں گے اور ملک کی شبیہ بگڑجائے گی۔ بورڈ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مقدس ہستیوں کی شان میں گستاخی کرنے والوں کو سزاء دی جائے  اور اس مسئلہ سے نمٹنے کے لئے ایک قانون وضع کرے۔

بورڈ نے حکومت اور عدلیہ سے یہ بھی کہا کہ مقدس صحائف کی تشریح سے گریز کیا جائے اور کہا کہ صرف مذہبی منصب رکھنے والے ہی ایسا کرنے کے مجاز ہیں۔ اگر ایسا کیا جائے تو وہ شہریوں کے مذہبی حقوق کو غصب کرنے کے مترادف ہوگا۔

بورڈ نے یہ بھی کہا کہ مذہب تبدیل کرنے والوں کی جانب سے دباؤ ڈالنے کی پولیس سے کبھی بھی شکایت نہ کئے جانے کے باوجود چند مسلم مبلغین کو جبری تبدیلی مذہب کے الزامات میں ماخوذ کیا گیا ہے۔

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.