ہندوستان میں ہندوتوا کیخلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے: فرانسیسی مصنف

فرانسیسی مصنف نے لکھا کہ 2018 میں ”ورائٹی آف ڈیموکریسی انسٹی ٹیوٹ“ نے ہندوستان کو لبرل ڈیموکریسی کی بجائے الیکٹورل ڈیموکریسی قرار دیا کیونکہ وہاں سیول سوسائٹی اور میڈیا کی آزادی سلب کی جا رہی ہے۔

لندن: فرانسیسی مصنف کرسٹوف جیفرلاٹ نے انکشاف کیا ہے کہ ہندو انتہا پسند قوم پرست سیلف سنسر شپ کیلئے طرح طرح کے حربے استعمال کر رہے ہیں۔ ہندوستان میں ہندوتوا کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو ملک و قوم دْشمنی اور غداری سے جوڑا جاتا ہے۔ مغربی دنیا بھارت میں دم توڑتی جمہوریت پر خاموش کیوں؟

 کنگس کالج لندن میں بھارتی سیاست اور سماجیات کے پروفیسر اور فرانسیسی نژاد مصنف، کرسٹوف جیفرلاٹ نے پرنسٹن یونیورسٹی سے شائع ہونے والی اپنی حالیہ کتاب”Modi’s India: Hindu Nationalism and the Rise of Ethnic Democracy مودی کا ہندوستان: ہندو قوم پرستی اور نسل پرستانہ جمہوریت کا ظہور) میں اس حوالے سے کئی سوالات اٹھا دیئے ہیں۔

پروفیسر کرسٹوف نے اپنی کتاب میں کہا کہ حال ہی میں اقوامِ متحدہ میں مودی نے کھوکھلا دعویٰ کیا کہ جمہوریت نے ہندوستان میں جنم لیا۔ مگر کسی نے مودی سے یہ نہیں پوچھا کہ آج بھارت میں جمہوریت کا حال کیا ہے؟ وہاں تو جمہوریت زوال پذیر ہے! سالہا سال ہندوستان میں کمزور ہوتی جمہوریت کو مختلف عالمی اداروں نے بھی دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ تسلیم کیا ہے۔

فرانسیسی مصنف نے لکھا کہ 2018 میں ”ورائٹی آف ڈیموکریسی انسٹی ٹیوٹ“ نے ہندوستان کو لبرل ڈیموکریسی کی بجائے الیکٹورل ڈیموکریسی قرار دیا کیونکہ وہاں سیول سوسائٹی اور میڈیا کی آزادی سلب کی جا رہی ہے۔ 2019 میں اکانومسٹ انٹیلی جنس یونٹ کے ڈیموکریسی انڈیکس پر ہندوستان 10 پوائنٹ تنزلی کے بعد 51 ویں نمبر پر آگیا۔

ڈیموکریسی انڈیکس میں ہندوستان ایک ناکام جمہوریت کے طور پر درج ہے کیونکہ وہاں سماجی آزادیاں (سول لبرٹیز) محدود تر ہوتی جا رہی ہیں۔ 2020 میں فریڈم ہاؤس نے بھی اپنی سالانہ رپورٹ میں بھارت کو تشویش والے ممالک میں شامل کیا۔ کتاب میں بتایا گیا ہے کہ فریڈم انڈیکس 2020 میں جمہوریت اور انسانی آزادیوں کے حوالے سے ہندوستان سب سے زیادہ تنزلی کا شکار ملک ہے۔

فریڈم ہاؤس نے سیکیورٹی، توہین عدالت اور غداری وغیرہ کے نام پر بننے والے کالے قوانین کے ذریعہ جمہوری آوازوں کو دبائے جانے پر تشویش کا اظہار کیا۔ ہندوستان پریس کی آزادی کے حوالے سے بھی 9 پوائنٹس کی تنزلی کے بعد 142 ویں نمبر پر کھڑا ہے۔ ہندو انتہا پسند قوم پرست سیلف سنسر شپ کیلئے طرح طرح کے حربے استعمال کر رہے ہیں۔

ہندوستان میں ہندوتوا کے خلاف ہر آواز کو ملک و قوم دشمنی اور غداری سے جوڑا جاتاہے مگر ان تمام حقائق سے مغرب نظر یں چرا رہا ہے۔ چین کے خلاف نئی سرد جنگ میں ہندوستان کو پراکسی کے طور پر استعمال کرنے کے منصوبے کے باعث اس کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ اس منافقت سے مغرب کی اپنی جمہوریت پسندی کی قلعی کھول دی ہے۔ ہندوستان کی جمہوریت دشمن ریاستی پالیسیوں پر خاموشی سے مغربی ساکھ کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

ذریعہ
ایجنسیز

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.