یوپی: محروس عتیق احمد اور اہلیہ کی مجلس میں شمولیت

بیرسٹر اسد الدین اویسی نے یہ کہتے ہوئے مجرمانہ پس منظر کے حامل سابق ایم پی کی مجلس میں شمولیت کی مدافعت کی کہ کئی بی جے پی قائدین کو بھی متعدد مقدمات کا سامنا ہے۔

لکھنؤ: محروس جرائم پیشہ ایک سابق رکن پارلیمنٹ عتیق احمد اور ان کی اہلیہ نے آج آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر کی موجودگی میں مجلس میں شمولیت اختیار کرلی، جس پر بی جے پی نے سخت ردّعمل کا اظہار کیا اور کہا کہ چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ اترپردیش میں ”جناح کی جہادی ذہنیت“ کو پروان چڑھنے نہیں دیں گے۔

عتیق احمد کی شریک حیات شائستہ پروین نے یہاں ایک پریس کانفرنس میں اے آئی ایم آئی ایم میں شمولیت اختیار کی، جب کہ عتیق نے غیرحاضری میں نئی پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔

اسد الدین اویسی نے سماج وادی پارٹی کے سابق لیڈر عتیق احمد اور ان کی بیوی کو پارٹی میں شامل کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی نے مسلمانوں کو غلاموں کی طرح اپنی پارٹی میں استعمال کیا۔

عتیق احمد کو پارٹی میں شامل کرنے کے اپنے فیصلہ کی مدافعت کرتے ہوئے اویسی نے زور دے کر کہا کہ کئی بی جے پی قائدین کو بھی متعدد مقدمات کا سامنا ہے۔ واضح رہے کہ عتیق احمد کے خلاف کئی فوجداری مقدمات درج ہیں۔

اویسی نے کہا کہ اترپردیش میں 37 فیصد بی جے پی ارکانِ اسمبلی کے خلاف فوجداری مقدمات درج ہیں، جب کہ 116 بی جے پی ارکانِ پارلیمنٹ کے خلاف سنگین فوجداری مقدمات ہیں۔ ان میں سے بیشتر مقدمات خواتین کے خلاف جرائم سے متعلق ہیں۔

بی جے پی نے ان کے اس بیان اور عتیق احمد کی شمولیت پر سخت ردّعمل ظاہر کیا۔ بی جے پی کے قنوج کے رکن پارلیمنٹ سبرت پاٹھک نے ہندی میں ٹویٹ کیا کہ عتیق احمد جیسے بدنام شخص کو برادری کو تحفظ فراہم کرنے کے نام پر تحفظ دینا، انہیں اور ان کی بیوی کو اے آئی ایم آئی ایم میں شامل کرنا اویسی کی ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے، لیکن یاد رکھیں کہ یوگی جی، جناح کی جہادی ذہنیت کو اترپردیش میں پھلنے پھولنے نہیں دیں گے۔

(پی ٹی آئی)

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.