یوپی کے مسلمان بھی ذات پات کی بنیاد پر مردم شماری کے حامی

آل انڈیا پسماندہ مسلم محاذ نے جو پسماندہ مسلم برادریوں کیلئے ریزرویشن کی مہم چلارہا ہے مطالبہ کیا ہے کہ اقلیتی فرقہ کیلئے بھی ذات پات کی بنیاد پر مردم شماری کروائی جائے۔

لکھنو: مختلف سیاسی جماعتوں میں ذات پات کی بنیاد پر مردم شماری کا مطالبہ زور پکڑتا جارہا ہے ایسے میں اترپردیش کا مسلم فرقہ بھی چاہتا ہے کہ پسماندہ ذاتوں کی مردم شماری ہوجائے۔ آل انڈیا پسماندہ مسلم محاذ نے جو پسماندہ مسلم برادریوں کیلئے ریزرویشن کی مہم چلارہا ہے مطالبہ کیا ہے کہ اقلیتی فرقہ کیلئے بھی ذات پات کی بنیاد پر مردم شماری کروائی جائے۔

اس سلسلہ میں 17مسلم تنظیموں کا ایک اجلاس حال میں منعقد ہوا تاکہ مستقبل کا لائحہ عمل طئے ہو۔ محاذ کے صدر علی انور انصاری نے کہا کہ ذات پات کی بنیاد پر مردم شماری‘ ہندو فرقہ تک محدود نہ رہے بلکہ اسے اقلیتی فرقہ تک توسیع دیا جائے کیونکہ مسلمانوں میں بھی ذات پات کے نظام پر عمل ہوتا ہے۔

 انصاری نے کہا کہ مسلمان‘ ہندوؤں کی طرح مختلف ذاتوں اور ذیلی ذاتوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ 1931سے ذات پات کی بنیاد پر مردم شماری نہیں ہوئی اور یہی وجہ ہے کہ حکومت کی پالیسیوں کے فائدے نسبتاً کمزور طبقات اور چھوٹی ذاتوں تک نہیں پہونچ سکے۔ پسماندہ ذاتوں کی درجہ بندی پسماندہ اور انتہائی پسماندہ میں ہونی چاہیئے۔ ذیلی درجہ بندی مرکزی سطح پر کی جانی چاہیئے اور۔۔۔اس پر سارے ملک میں عمل ہونا چاہیئے۔

ذریعہ
آئی اے این ایس

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.