آر کے کی موت کیلئے پولیس ذمہ دار : بیوہ سریشا

بروقت دوائیں نہ ملنے کی وجہ سے وہ چل بسے، جنگل کے علاقہ سے باہر آنے کا کوئی راستہ ہی نہیں تھا کیونکہ پولیس نے جنگل کے علاقہ کا محاصرہ کررکھا تھا تاہم انہوں نے کہا کہ وہ حقائق سے مکمل طور پر واقف نہیں ہیں۔

امراوتی: سی پی آئی (ماؤسٹ) کے سرکردہ قائد اکی راجو ہراگوپال عرف آر کے کی بیوہ سریشا نے اپنے شوہر کی موت پر ردعمل کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ طبی امداد تک عدم رسائی کے سبب ان کے شوہر کی موت ہوئی ہے۔

چھتیس گڑھ کے جنگلاتی علاقہ کے اطراف پولیس کے مسلح دستے گشت کررہے تھے جس کے سبب  آر کے کومناسب طبی سہولت نہیں مل پائی۔ انہوں نے آر کے کی موت حکومتی قتل قرار دیا ار کہا کہ میرے شوہر کی موت ناسازی صحت کے سبب نہیں ہوئی ہے۔

ضلع پرکاشم (اے پی) میں اپنے آبائی موضع میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے آر کے کی بیوہ سریشا نے یہ بات کہی۔

سریشا نے ماوسٹ سنٹرل کمیٹی کی جانب سے جاری کردہ بیان کو غلط قرار دیا۔ سنٹرل کمیٹی نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ دستیاب بہتر علاج کے باوجود ہم آر کے کو نہیں بچاپائے۔ آر کے، گردوں کے عارضہ میں مبتلا تھے۔

سریشا نے بتایا کہ میرے شوہر کو کس طرح کا علاج فراہم کیا گیا؟ بروقت دوائیں نہ ملنے کی وجہ سے وہ چل بسے، جنگل کے علاقہ سے باہر آنے کا کوئی راستہ ہی نہیں تھا کیونکہ پولیس نے جنگل کے علاقہ کا محاصرہ کررکھا تھا تاہم انہوں نے کہا کہ وہ حقائق سے مکمل طور پر واقف نہیں ہیں۔

سریشا جو پیپلز وار گروپ میں سرگرم رہ چکی ہیں، نے کہا کہ میرے شوہر نے ہمیشہ، عوام کی خدمت کی ہے۔آر کے کو عوام بہت زیادہ چاہتے تھے۔ حتیٰ کہ پارٹی (ماوسٹ) میں بھی وہ پابند ڈسپلن تھے، اور وہ ہر وقت عوام کے لئے کچھ کرنے کی جدوجہد کررہے تھے۔

ریویشنری رائٹرس اسوسی ایشن لیڈر کلیان راؤ، جو ماوسٹ کے سرکردہ قائد آر کے کے قریب تھے اور ان کے واقف کار تھے، نے کہا کہ اگرچیکہ وہ، اب اس دنیا میں نہیں ہیں مگر اس کے باوجود وہ ہمیشہ عوام کے دلوں میں زندہ رہیں گے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ جنگل کے اطراف پولیس کیمپ کی موجودگی کے سبب آر کے کو بروقت اور مناسب انداز میں علاج کی سہولت نہیں مل پائی۔ آر کے (اکی راجو ہرا گوپال)63 سال کے تھے، وہ ریاست اے پی کے ضلع گنٹور کے موضع پناڈو علاقہ میں پیدا ہوئے تھے۔پی جی (پوسٹ گریجویٹ) آر کے، ابتداء سے ہی اپنے والد کے آئیڈیل تھے اور وہ ٹیچر بن گئے مگر بعد میں آر کے نے1978 میں انقلابی راستہ اپنایا اور نکسل باری تحریک کے نظریات سے متاثر تھے۔

جب پیپلز وار گروپ سرگرم تھا تب ان کی ترقی ہوئی 1992میں انہیں ریاستی کمیٹی کارکن بنایا گیا تھا۔ 2000میں متحدہ ریاست اے پی کا سکریٹری بنانے سے قبل انہوں نے 4برسوں تک پی ڈبلیو جی گروپ تلنگانہ کی قیادت کی تھی۔

2001 میں وہ، ریاستی کمیٹی کے رکن بن گئے۔ آر کے، کے فرزند پرتھوی بھی ماوسٹ تھے تاہم 2018 میں پولیس کے تصادم کے درمیان وہ مارا گیا۔ سنٹرل کمیٹی کے ترجمان ابھئے نے بتایا کہ آر کے، 14/ اکتوبر کی صبح چل بسے۔

ذریعہ
پی ٹی آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.