آندھراپردیش میں صدر راج کے نفاذ کا مطالبہ : چندرابابو

ٹی ڈی پی سربراہ نے پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ اور قائدین کے ساتھ رام ناتھ کووند سے ملاقات کی اور انہیں گذشتہ ڈھائی برسوں کے دوران عوام پر حکومت اور پولیس کی زیادتیوں سے متعلق تفصیلی یادداشت پیش کی۔

وجئے واڑہ: تلگودیشم پارٹی کے قومی صدر و سابق چیف منسٹر این چندرابابونائیڈو نے پیر کے روز دہلی میں صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند سے ملاقات کی اور آندھراپردیش کے عوام کو ریاستی حکومت کے اسپانسر کردہ دہشت گردی اور ڈرگس مافیا کی سے بچانے کیلئے ریاست میں صدر راج نفاذ کرنے کا مطالبہ کیا۔

ٹی ڈی پی سربراہ نے پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ اور قائدین کے ساتھ رام ناتھ کووند سے ملاقات کی اور انہیں گذشتہ ڈھائی برسوں کے دوران عوام پر حکومت اور پولیس کی زیادتیوں سے متعلق تفصیلی یادداشت پیش کی۔

بعدازاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نائیڈو نے کہا کہ وہ صدر جمہوریہ پر واضح کرچکے ہیں کہ آندھراپردیش خطرناک ریاست بن گئی۔ اگر ریاست میں اب آرٹیکل 356کونافذ نہیں کیا جائے تو مافیا گینگس کو نیا حوصلہ ملے گا اور وہ اپنی ناپاک سرگرمیوں کو دیگر ریاستوں تک بڑھادیں گی۔ سابق چیف منسٹر نے کہا کہ صدر جمہوریہ نے اس مسئلہ کا جائزہ لینے کا تیقن دیا۔

پارٹی وفد نے رام ناتھ کووند کو تفصیل سے بتایا کہ ریاست میں تیزی کے ساتھ نظم وضبط کی بگڑتی صورتحال‘ آئینی مشنری کو بحال کرنے اور بے قابو ڈرگس مافیا پر قابو پانے کیلئے فوری قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔

ملک کے کسی بھی مقام پرضبط شدہ گانجہ اس کے تار‘ آندھرا مافیا سے جا ملتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکز اور صدر جمہوریہ کو ڈرگس مافیا سے روابط کی جامع تحقیقات کا حکم دینا چاہیئے تاکہ حقائق کو منظر عام پر لایا جاسکے۔

انہوں نے منگل گیری کے مین ٹی ڈی پی دفتر پر حملہ کی سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ کیا اور کہا کہ شرپسندوں نے منگل گیری‘ وشاکھاپٹنم‘ ہندو پور‘ اننت پور‘ نیلور‘ سری کلا ہستی اور دیگر مقامات پر تلگودیشم پارٹی کے دفاتر پر حملے کئے۔

ذریعہ
یو این آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.