اے پی میں سیلاب: ریل اور سڑکیں بند، کڑپہ میں عمارت منہدم

نیلور کے بس اسٹانڈ پر سینکڑوں مسافرین پھنسے ہوئے ہیں کیونکہ بس خدمات شدید طور پر متاثر ہیں۔ سری کلا ہستی سے آنے والی ٹریفک کو ٹوٹم بیڈو چیک پوسٹ کے قریب روکدیا گیا ہے اور اس ٹریفک کو براہ پامورو اور وارسی کی طرف موڑ دیا گیا ہے۔

امراوتی: آندھرا پردیش میں شدید سیلاب سے اہم ٹرین اور سڑک کے راستے جو جنوب اور مشرق کو جوڑتے ہیں۔ ہنوز منقطع ہیں اتوار کے روز پناندی کی طغیانی نے زبردست تباہی پھیلا دی ہے۔ جس کے سبب جنوب اور مشرق کو جوڑنے والے اہم ٹرین اور سڑک کے راستے منقطع ہوگئے ہیں۔ ضلع نیلور میں پڈگو پاڈو کے قریب سڑک کے بہہ جانے سے چینائی۔ کولکتہ قومی شاہراہ۔16 کو ٹریفک کیلئے بند کردیا گیا۔

 چینائی۔ وجئے واڑہ گرانڈ ٹرنک روٹس پر کم از کم 17ایکسپریس ٹرینوں کو منسوخ کردیا گیا۔ کیونکہ پڈو گوہاڈو کے قریب ریلوے ٹریکس کے اوپر سے پانی بہہ رہا تھا۔ اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھاریٹی نے بتایا کہ ضلع نیلور میں سوما سیلہ ذخیرہ آب سے2لاکھ سے زائد کیوزک پانی بہنے سے یہ سیلاب آیا ہے جس کے سبب کوپورو کے مقام پر قومی شاہراہ 16 کا بڑا حصہ بہہ گیا اور یہاں ایک بڑا گڑھا بن گیا ہے۔اسی طرح نیلور۔ وجئے واڑہ کے درمیان بھی قومی شاہراہ 16 پر ٹریفک معطل رہی جس کی وجہ سے دونوں طرف کئی کیلو میٹر تک سینکڑوں گاڑیاں پھنسی ہوئی ہیں۔

نیلور کے بس اسٹانڈ پر سینکڑوں مسافرین پھنسے ہوئے ہیں کیونکہ بس خدمات شدید طور پر متاثر ہیں۔ سری کلا ہستی سے آنے والی ٹریفک کو ٹوٹم بیڈو چیک پوسٹ کے قریب روکدیا گیا ہے اور اس ٹریفک کو براہ پامورو اور وارسی کی طرف موڑ دیا گیا ہے۔ عہدیداروں نے یہ بات بتائی۔ ضلع کڑپہ میں کمایا پورم کے مقام پر پاپگنی ندی کا پل منہدم ہوگیا جس کے نتیجہ میں کڑپہ اور اننت پور اضلاع کے درمیان سڑک اور ترسیل کا رابطہ منقطع ہوگیا۔

ویلی گلوذخیرہ آب سے آنے والے پانی کے طاقتور ریلے سے یہ پل منہدم ہوگیا۔ شہر کڑپہ میں اتوار کی صبح ایک تین منزلہ عمارت گرپڑی تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔ بتایا کہ اس واقعہ سے چند منٹ قبل مکینوں نے اس عمارت کا تخلیہ کردیا تھا۔ دوسری منزل پر پھنسے ایک ماں اور بچہ کو پولیس اور فائر سرویس کے جوانوں نے بچالیا۔

ذریعہ
پی ٹی آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.