بھکت کی شکایت کا جواب دے:سپریم کورٹ

لارڈ وینکٹیشورا سوامی کے ایک بھکت نے تروپتی مندر میں ادا کی جانے والی ”سیوا“ اور رسومات میں بے قاعدگیوں کا الزام عائد کیا ہے۔

حیدرآباد: ملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ نے چہارشنبہ کے روز تروپتی تروملا دیو استھانم سے کہا کہ وہ ایک بھکت کی شکایت کا جواب دے۔

لارڈ وینکٹیشورا سوامی کے ایک بھکت نے تروپتی مندر میں ادا کی جانے والی ”سیوا“ اور رسومات میں بے قاعدگیوں کا الزام عائد کیا ہے۔

سپریم کورٹ نے بھکت کی شکایت کی وضاحت کرنے کا حکم دیا ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا این وی رمنا، جسٹس سوریا کا نت اور جسٹس ہیما کوہلی پرمشتمل بنچ نے آندھرا پردیش ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کی عرضی کے خارج ہونے کے بعد سپریم کورٹ میں داخل کردہ اسپیشل لیوپٹیشن کی سماعت کرتے ہوئے دیوااستھانم کو عدالت عظمی میں جواب داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔

درخواست گذار نے اپنی عرضی میں سپریم کورٹ سے لارڈ وینکٹیشورا سوامی مندر میں سیوا اور رسومات کی ادائیگی کے طریقہ کار میں اصلاح کیلئے دیواستھانم کو حکم دینے کی التجا کی ہے۔بنچ نے آئندہ سماعت 6/ اکتوبر تک ملتوی کردی ہے۔

سماعت کے دوران بنچ نے اس بات کا اشارہ دیا کہ عدالت، پوجا کے طور طریقوں کے اہتمام اور کتنے افراد کی جانب سے پوجا کا اہتمام کیا جائے، جیسے موضوعات میں مداخلت نہیں کرتی تاہم عدالت نے کہا کہ ہم صرف دیواستھانم سے یہ چاہتے ہیں کہ درخواست گذار نے تروملا تروپتی دیوااستھانم سے جو نمائندگی کی تھی، اس پر بورڈ نے کیا قدم اٹھایا ہے۔ اس بارے میں عدالت عظمی کو بتایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ یہ کوئی قانونی حق کا معاملہ نہیں ہے۔ چیف جسٹس رمنا نے کہا کہ وہ دیگر بھائی، بہن ججس کی طرح ہم سب بالاجی کے بھکت ہیں اور ہم یہ توقع رکھتے ہیں، روایات کے مطابق تمام رسومات انجام دئیے جارہے ہیں۔

چیف جسٹس نے درخواست گذار سری داری دادا سے جو بالاجی کا بھکت ہے، کہا کہ وہ صبر وتحمل کا مظاہرہ کریں۔ اس معاملہ کو رجسٹری کی فہرست میں لانے کیلئے سعی نہ کریں۔ انہوں نے درخواست گذار سے شخصی طور پر تلگو میں بھی بات کی۔

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.