ذات پر مبنی مردم شماری : آندھرا پردیش اسمبلی میں قرارداد منظور

اسمبلی میں وائی ایس جگن نے کہا کہ پسماندہ طبقات کی آبادی کی درست تعداد موجود نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں پسماندہ طبقات کی52فیصد آبادی ہے۔

امراوتی: آندھرا پردیش اسمبلی اجلاس کے چوتھے دن وزیر وینوگوپال کرشنا نے بی سی ذات کی مردم شماری کے لیے قرارداد پیش کی۔

آندھرا پردیش کے چیف منسٹر وائی ایس جگن موہن ریڈی نے کہا کہ ہندوستان میں ذات پر مبنی مردم شماری 1931میں ہوئی تھی۔ گزشتہ 90سالوں کے دوران ذات پر مبنی مردم شماری نہیں کی گئی۔

اسمبلی میں وائی ایس جگن نے کہا کہ پسماندہ طبقات کی آبادی کی درست تعداد موجود نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں پسماندہ طبقات کی52فیصد آبادی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پسماندہ طبقات کی ذات پر مبنی مردم شماری کروانا ضروری ہے۔ وزیر وینوگوپال کرشنا نے کہا کہ فلاحی اسکیمات کو روبہ عمل لانے ذات پر مبنی مردم شماری کارآمد ثابت ہوگی۔

وائی ایس آر سی پی کے رکن اسمبلی کولوسو پارتھا سارتھی نے کہا کہ آندھرا پردیش کے چیف منسٹر وائی ایس جگن موہن ریڈی ہمیشہ عوام کی ترقی کے لیے کام کرتے ہیں اور انہوں نے کئی اسکیمات کا آغاز کیا ہے جو سماج کے تما م طبقات کے لیے فائدہ مند ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چندرابابو نائڈو کے دور میں کوئی ترقی نہیں ہوئی۔ کوراسلہ کنابابو نے کہا کہ رعیتو بھروسہ کیندر‘ کسانوں کی مدد کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں 10,778 رعیتو بھروسہ مراکز ہیں۔

ذریعہ
یو این آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.