زائد فیس کی وصولی پر سخت کاروائی کا انتباہ

کمیشن کے صدرنشین جسٹس (ریٹائرڈ) آر کانتا راؤ نے آج یہاں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں پہلی بار اسکولس اور کالجس کی فیس کو ریگولیٹ (باقاعدہ) بنایا گیا ہے ۔

امراوتی: آندھرا پردیش اسکول ایجوکیشن ریگولیٹری اینڈ مانیٹرنگ کمیشن نے تعلیمی سال2021-22 کے آغاز کے سلسلہ میں ریاست کے اسکولس اور انٹر میڈیٹ کالجس کیلئے فیس ڈھانچہ کا تعین کردیا ہے۔

کمیشن کے صدرنشین جسٹس (ریٹائرڈ) آر کانتا راؤ نے آج یہاں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں پہلی بار اسکولس اور کالجس کی فیس کو ریگولیٹ (باقاعدہ) بنایا گیا ہے اس طرح کاعمل دیگر ریاستوں میں پہلے ہی شروع کیا جاچکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گرام پنچایتوں میں پرائمری کلاسس کی سالانہ اعظم ترین ٹیوشن فیس10ہزار روپے مقرر کی گئی ہے جبکہ ہائر کلاسس کیلئے سالانہ اعظم ترین فیس12 ہزار روپے مقرر کی جاچکی ہے جبکہ بلدیات میں یہ ٹیوشن فیس11ہزار اور 15ہزار روپے رہے گی۔

اس طرح میونسپل کارپوریشن علاقوں میں پرائمری کلاسس کی زائد فیس12ہزار اور ہائیر کلاسس کی اعظم ترین ٹیوشن فیس18ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کمیشن کے ارکان نے مختلف علاقوں کے تعلیمی اداروں کے دورہ کے بعد فیس ڈھانچہ کو قطعیت دی ہے۔ اس سلسلہ میں گذشتہ سال اولیائے طلبہ سے بھی مشاورت کی گئی ہے۔

اس ٹیوشن فیس میں رجسٹریشن، ایڈمیشن، امتحان، لیبا ریٹری، اسپورٹس، کمپیوٹر لیاب، لائبریری اور دیگر فیس شامل ہے جبکہ ہاسٹل اور ٹرانسپورٹیشن چارجس کو اختیاری زمرہ میں رکھا گیا ہے مگر اسکی بھی حد مقرر کی گئی ہے۔

کانتا راؤ نے بتایا کہ انٹر میڈیٹ کا لجوں کی ٹیوشن فیس کے تعین کا جہاں تک مسئلہ ہے اس میں مقام اور مضامین اسٹریم کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔

انٹر میڈیٹ کالجوں کی فیس کا رینج12ہزار روپے سے 24ہزار روپے رکھا گیا ہے۔ صدر نشین کمیشن نے مزید کہا کہ کوئی بھی اسکول یا کالج، زائد فیس اسکول نہیں کرسکتا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس فیس ڈھانچہ کے تعین سے 80فیصد سے زائد تعلیمی اداروں کو کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوگا۔ تعلیم کو تجارت نہیں بنانا چاہئے۔

بنیادی سہولتوں کے فقدان کے باوجود زائد فیس وصول کرنے والے اسکول یا کالج کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی۔ کمیشن نے اولیائے طلبہ سے خواہش کی ہے کہ زائد فیس کی وصولی کے خلاف فون نمبر9150381111 پر شکایت درج کرائیں۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن بھی تعلیم کے معیار پر نظر رکھے گا۔

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.