آئی اے ایس آفیسر کے خلاف تحقیقات، یوپی حکومت کادہرا معیار : اسدالدین اویسی

ایک 6 سالہ قدیم ویڈیو جس میں آئی اے ایس آفیسر کومشرف بہ اسلام ہونے کے فوائد پر بات کرتے ہوئے مبینہ طورپردکھایا گیا ہے‘ وائرل ہونے کے بعد پیر کے روزکانپور کے پولیس کمشنر اسیم کمار ارون نے اس کی تحقیقات کاحکم دیاہے۔

حیدرآباد: آل انڈیامجلس اتحادالمسلمین کے صدراسد الدین اویسی نے ایک سینئرآئی اے ایس آفیسر محمدافتخارالدین کے خلاف تحقیقات کی شروعات پر اترپردیش کی بی جے پی حکومت کو شدید تنقید کانشانہ بنایا۔

ایک 6 سالہ قدیم ویڈیو جس میں آئی اے ایس آفیسر کومشرف بہ اسلام ہونے کے فوائد پر بات کرتے ہوئے مبینہ طورپردکھایا گیا ہے‘ وائرل ہونے کے بعد پیر کے روزکانپور کے پولیس کمشنر اسیم کمار ارون نے اس کی تحقیقات کاحکم دیاہے۔

افتخار الدین اس وقت تنقید کی زد میں آگئے جبکہ انہوں نے مبلغین دین سے مبینہ طورپر یہ کہا کہ دین اسلام کو ہر گھر تک پہونچانا ان کی ذمہ داری ہے۔

یہ ویڈیو ان کی سرکاری قیام گاہ پر اس وقت شوٹ کیا گیا تھا جبکہ وہ کانپور کے ڈیویژنل کمشنرتھے۔ اویسی نے ریمارک کیا کہ اس ویڈیو کا حقیقت سے کوئی لینا دینا نہیں ہے اوراس وقت یوپی میں بی جے پی کی حکومت بھی نہیں تھی۔

انہوں نے کہاکہ یوپی حکومت کایہ اقدام کھلے طورپر مذہب کی اساس پرہراساں کرنے اور نشانہ بنانے کے مماثل ہے۔

اگر یہی پیمانہ برقرار رکھاجائے تو پھر کسی بھی عہدیدار کو مذہب کی سرگرمیوں سے مربوط نہیں رہنا چاہئے اور پھر تمام دفاتر میں تمام مذاہب کی علامتیں اور تصاویرپربھی امتناع عائد کرنا چاہئے۔

مزیدبراں انہوں نے کہاکہ اگرگھر میں مذہب‘عقیدہ پر بات چیت کرنا جرم ہے تو پھر مذہبی تقاریب میں شرکت کرنے پر عہدیدارو ں کوسزادی جانی چاہئے۔

اسد الدین اویسی نے پوچھا کہ ”یوپی حکومت دہرا معیارکیوں اپنارہی ہے“۔ 1985 بیاچ کے آئی اے ایس آفیسر افتخار الدین‘اترپردیش اسٹیٹ روڈٹرانسپورٹ کارپوریشن کے صدر نشین کے عہدہ پر فائز ہیں۔

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.