ازدواجی تنازعات کی یکسوئی کیلئے حج ہاؤز میں قائم کونسلنگ سنٹر تنازعہ کا شکار

یہ کونسلنگ سنٹر جس کی اب کوئی قانونی حیثیت باقی نہیں رہی ہے،ہنوز حج ہاؤز کی عمارت میں کام کررہا ہے جس کی وجہ سے بہت سے لوگ اپنے معاملات اس مرکز سے اس امید کے ساتھ رجوع کررہے ہیں کہ یہاں ان کے مسئلہ کی قانون و شریعت کی روشنی میں یکسوئی کی جائے گی مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ مرکز اب ایک مہیلا منڈلی میں تبدیل ہوکر رہ گیا ہے۔

حیدرآباد: ریاستی حکومت نے خاص کر مسلمانوں میں طلاق کے بڑھتے واقعات کے پیش نظر ازدواجی تنازعات کی مصالحت اورثالثی کے ذریعہ یکسوئی کے لئے 2015 ء میں ’میاریج کونسلنگ سنٹر‘ کا قیام عمل میں لایا تھا مگر اب ایسا لگتا ہے کہ اس مرکز کا وجود ہی ایک بڑا تنازعہ بن گیا ہے۔

یہ کونسلنگ سنٹر جس کی اب کوئی قانونی حیثیت باقی نہیں رہی ہے،ہنوز حج ہاؤز کی عمارت میں کام کررہا ہے جس کی وجہ سے بہت سے لوگ اپنے معاملات اس مرکز سے اس امید کے ساتھ رجوع کررہے ہیں کہ یہاں ان کے مسئلہ کی قانون و شریعت کی روشنی میں یکسوئی کی جائے گی مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ مرکز اب ایک مہیلا منڈلی میں تبدیل ہوکر رہ گیا ہے۔

کونسلنگ سنٹر کے ذریعہ ازدواجی تنازعات کی خوشگوار ماحول میں یکسوئی کی کیا امید کی جاسکتی ہے جب اس سنٹر میں کونسلنگ کرنے والے ہی آپس میں ایک دوسرے کے خلاف نبرد آزما ہیں۔ یاد رہے کہ حکومت نے ای اسمٰعیل (ریٹائرڈ جج) صدرنشین‘ شفیق الرحمن مہاجر سینئر ایڈوکیٹ، محسنہ پروین (ایڈوکیٹ)، مولانا مفتی صادق محی الدین فہیم، محمد رفیع الدین (شرعی کونسل حیدرآباد)، صبیحہ صدیقی (تنظیم بنت حرم) ارکان اور محمد اکرام اللہ (ناظر القضاۃ) وقف بورڈ (کنوینر کونسلنگ سنٹر)کے ساتھ اس کونسلنگ سنٹر قائم کیا تھا تاکہ متحارب فریقین کے آپسی تنازعات کی قانون و شریعت کے دائرہ میں مصالحت و ثالثی کے ذریعہ یکسوئی کرتے ہوئے ان کو پھر سے جوڑا جائے، تاہم ابتداء ہی سے کچھ نامزد ارکان نے رجوع نہیں کیا جبکہ ایک رکن کا انتقال ہوگیا اور ایک رکن، ٹریبونل میں تقرر کے بعد اس سنٹر کو چھوڑدیا۔

بعدازاں ای اسمٰعیل نے اپنی کوششوں سے محمد انیس الدین، ولی الرحمن ایڈوکیٹ، شجاع الدین فریدی، افسر جہاں کو ارکان کے طور پر شامل کرلیا، گوکہ کچھ ارکان کے مطابق ان ارکان کی شمولیت کی حکومت کو اطلاع دی گئی تھی مگراس خصوص میں حکومت کی جانب سے کوئی احکام جاری نہیں ہوئے۔مولانا مفتی عمر عابدین کو بھی اب اس میں شامل کرلیا گیا ہے۔اس طرح اب حکومت کے منظورہ پیانل میں صرف ایک ہی رکن مولانا مفتی صادق محی الدین فہیم رہ گئے ہیں چونکہ کونسلنگ سنٹر میں گزشتہ چند دنوں سے جاری اختلافات کے نتیجہ میں ای اسمٰیل نے بھی اپنی مکتوب استعفیٰ حکومت کو روانہ کردیا ہے۔

کچھ دن قبل ای اسمٰعیل نے کچھ میڈیا والوں کو طلب کرتے ہوئے مستعفی ہوجانے کا اعلان کیا تھا اور کچھ دیر بعد ان سے یہ خواہش کی تھی کہ وہ اس ویڈیو کو ریلیز نہ کریں۔ پھر دو دن بعد انہوں نے مکتوب استعفیٰ پیش کردیا۔ اب یہ مرکز شتر بے مہار بن گیا ہے۔ مرکز کے بہت سے ارکان نے یہ شکایت کی ہے کہ ابتداء میں جس خوش اسلوبی سے یہ مرکز چلایا جارہا تھا ایک رکن کی من مانی اور سب پر حاوی ہونے کی کوششوں کی وجہ سے یہ مرکز اپنی اہمیت کھودیا ہے۔

عوام نے بھی شکایت کی ہے کہ یہاں رجوع ہونے والوں کے ساتھ بھی اچھا سلوک نہیں کیا جارہا ہے اور فریقین کو مجرمین کی طرح سلوک کیا جارہا ہے اور انہیں ڈرانے و دھمکانے کی بھی کوشش کی جارہی ہے۔ یہ بھی معلو م ہوا ہے کہ کونسلنگ سنٹر میں جو کچھ ہورہا ہے اور اس سے محکمہ اقلیتی بہبود اور وقف بورڈ کے عہدیداربخوبی واقف ہیں اس کے باوجود اس مرکز کو من مانی طور پر چلانے کی کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے۔

یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ایک خاتون ریسرچ اسکالر کو اس مرکز(سنٹر) سے رجوع ہونے والے تنازعات کی فائیلس بھی ان کے مقالہ کے لئے دے دی گئیں جبکہ ازدواجی تنازعہ آپسی تنازعہ ہوتا ہے اور یہاں رجوع ہونے والے متحاربین کی فائیلس ان کی اجازت بغیر کسی کے حوالہ کرنا ازخود ایک جرم ہے۔حکومت کو چاہئے کہ وہ اس معاملہ کی تحقیقات کرتے ہوئے نہ صرف دیا گیا ریکارڈ واپس طلب کیا جائے اور اس کے قصور واروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.